بھارتی اداکار کے ہانیہ عامر کے خلاف نازیبا الفاظ پر بھارتی مداح بھی ناراض
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر آج کل بھارت میں بھی اپنے ڈراموں ’میرے ہمسفر‘ اور ’کبھی میں کبھی تم‘ کی وجہ سے چرچے میں ہیں۔ مگر ان کی شہرت کا یہ سفر ایک ناخوشگوار موڑ پر پہنچ گیا ہے جب ایک بھارتی سی گریڈ اداکار فیضان انصاری نے ہانیہ کے خلاف انتہائی گھٹیا اور گستاخانہ ریمارکس کرکے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کردیا۔
فیضان انصاری نے نہ صرف ہانیہ عامر کو نامناسب القابات سے نوازا بلکہ ان کے بارے میں انتہائی غیر مہذب الزامات بھی عائد کیے۔ یہ سب کچھ اس وقت سامنے آیا جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں ہانیہ عامر ایک بار پھر دونوں ممالک کی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ فیضان انصاری کی یہ شرمناک کوشش اس کے اپنے ہی ملک کے شائقین کو ناگوار گزری۔ بھارتی مداحوں نے سوشل میڈیا پر فیضان کے خلاف زبردست ردعمل دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ایک صارف نے لکھا: ’’ایک خاتون کے بارے میں ایسے شرمناک الفاظ کیسے استعمال کر سکتا ہے؟‘‘ جبکہ دوسرے نے کہا: ’’یہ صرف شہرت کے لیے ایسا کر رہا ہے۔‘‘
ہانیہ عامر جو کہ دیلجیت دوسانجھ کی فلم ’سردار جی 3‘ کا حصہ بننے والی تھیں، پہلگام حملوں کے بعد فلم میں ان کے کردار کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔ مگر ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ بھارت کے شائقین بھی ان کے دفاع میں کھڑے ہو گئے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔