Express News:
2026-06-03@04:15:42 GMT

سعودیہ اور امریکا : پاک بھارت بحران حل کروا سکتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

پہلگام کے مبینہ سانحہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے بحران کو ، ڈیڑھ ہفتہ گزرنے کے باوجود، کم کرنے کی بجائے بڑھایا ہی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی ، کی خاموشی معنی خیز ہے۔

پہلگام کے خونی سانحہ کے پس منظر میں پاکستانیوں اور بھارتیوں نے جو بنیادی سوالات اُٹھائے ہیں،بھارتی نیتا،بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی حکومت اِن استفسارات کا جواب دینے سے قاصر ہیں ۔ یوں پہلگام بارے جملہ بھارتی دعوے مشکوک ہوتے جارہے ہیں ۔

اِس دعوے کو بھی مزید تقویت مل رہی ہے کہ بھارت کے دو صوبوں میں جو ریاستی انتخابات ہونے جارہے ہیں ، مودی اینڈ کو نے ہندو ووٹ بٹورنے کے لیے پہلگام کا کھڑاگ کیا ہے۔ مودی اور اُن کی بنیاد پرست ہندو Mother Organizations(بی جے پی، آر ایس ایس ، وشوا ہندو پریشد وغیرہ) کے ماضی میں متعدد اور متنوع مسلم دشمن ، پاکستان دشمن اور کشمیر دشمن اقدامات بھی اِس امر کی چغلی کھاتے ہیں کہ مودی ووٹ اور اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز نہیں کرتے ۔ حتیٰ کہ نریندر مودی جی سیاسی و اقتداری طاقت حاصل کرنے کے لیے بھارتی مسلمانوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ گجرات میں اِنہی مقاصد کے لیے اُنھوں نے ہزاروں بھارتی مسلمانوں کا خون بہایا اور یوں عالمی برادری اور عالمی میڈیا سے گجرات کا قصاب کا لقب بھی پایا۔ اِسی خونی الزام کے پس منظر میں امریکا نے مودی پر پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ امریکی سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکتے ۔

اب جب کہ پہلگام واقعہ کے پس منظر میں سوال پوچھے جا رہے ہیں کہ اِس بحران سے نکلنے کے لیے کیا سعودی عرب اور امریکا دستگیری کر سکتے ہیں؟ حالیہ ایام میں ہمارے سامنے کئی مثالیں ایسی آئی ہیں جو بتاتی ہیں کہ ہاں، سعودیہ اور امریکا جنوبی ایشیا کے دونوں ممالک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں ۔ یوکرین کے خونریز جنگی بحران کو ختم کروانے کے لیے سعودیہ قیادت نے امریکی اور یوکرینی قیادت کو اپنے ہاں آمنے سامنے بٹھایا۔

 ایک مثال اور بھی ہمارے سامنے ہے جو بتاتی ہے کہ امریکا پاک بھارت بحران حل کروانے کی طاقت رکھتا ہے: فروری 2019ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی تصادم کے خدشات واضح ہو گئے تھے۔اس کا ذکر(سابق) امریکی وزیر خارجہ، مائیک پومپیو، نے اپنی کتابNever Give an Inch میں بیان کیا ہے۔ بقول پومپیو،یہ واقعہ اُس وقت شروع ہوا جب 14 فروری کو پلوامہ کے خودکش حملے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔اِس واقعہ کے بعد بھارت نے 26 فروری کو بالاکوٹ (پاکستان) میں مبینہ عسکریت پسند کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔اِس کے ردِعمل میں پاکستان نے جوابی فضائی کارروائی کی اور ایک بھارتی پائلٹ(ابھینندن) کو گرفتار کر لیا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، پومپیو کو ہنوئی(ویتنام) میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران اطلاع ملی کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر ایٹمی حملے کی تیاری کر رہے ہیں، جس پر فوری امریکی مداخلت نے صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور تباہ کن تصادم سے بچنے میں مدد دی۔

اِس بار مگر حالات ذرا مختلف ہیں کہ اب امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ ایسا وکھری ٹائپ کا حکمران برسرِ اقتدار ہے ۔ شنید ہے کہ پاک بھارت تناؤ کی خبروں کے پس منظر میں جب امریکی اخبار نویسوں نے ٹرمپ سے(ائر فورس وَن طیارے میں) سوالات کیے تو مبینہ طور پر ٹرمپ نے کندھے اچکائے اور کہا:’’ یہ لوگ خود ہی یہ مسئلہ حل کر لیں گے ۔‘‘ کیا امریکا ایسا سُپرپاور ملک پاک بھارت تناؤ سے اس قدر لا تعلق رہ سکتا ہے ؟ ناممکن ! مگر اِس کا کیا کِیا جائے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی بیان دیا ہے کہ’’ مسئلہ کشمیر پچھلے ہزار ، ڈیڑھ ہزار سال سے پاکستان اور بھارت کے درمیان وجہ تنازع ہے ۔‘‘چہ عجب! یہ وہی ٹرمپ صاحب ہیںجنھوں نے غزہ بارے کہہ دیا تھا کہ مَیں وہاں کا کئی بار دَورہ کر چکا ہُوں، حالانکہ ٹرمپ اپنی زندگی میں کبھی غزہ گئے ہی نہیں تھے ۔

یہ بہرحال اُمید افزا بات ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان Tammy Bruce نے کہا ہے کہ عنقریب امریکی وزیر خارجہ ( مارکو روبیو) پاکستان و بھارت کے وزرائے خارجہ سے ، پاک بھارت کشیدگی پر، گفتگو کریں گے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور مارکو روبیو کا رابطہ بھی ہُوا ہے۔ ایک اور اُمید افزا بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ ( اسحاق ڈار) نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور ( نٹالی بیکر) سے تفصیلی ملاقات کی ہے ۔ ظاہر ہے اِس ملاقات میں پاک بھارت تناؤ میں کمی کرنے بارے ہی بات چیت کی گئی ہوگی ۔

اب جب کہ پاک بھارت کشیدگی کے اِن ایام میں چین اور ترکیہ نے مبینہ طور پر پاکستان کی حمائت کر دی ہے ، سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر چین پر انحصار کر سکتا ہے ؟ ایک نقاد اور تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ پاکستانی اشرافیہ کی تزویراتی غلط فہمیاں بھی غیر عسکری طرزِ عمل کو اپنانے میں رکاوٹ بنی ہیں ۔

ایسے میں کئی اطراف سے اِن توقعات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ شائد سعودی عرب ، کسی نہ کسی شکل میں، اپنا موثر اثرورسوخ بروئے کار لا کر پاک بھارت کشیدگی ختم کروا سکتا ہے ۔

سعودی عرب جتنا پاکستان کے قریب ہے ، اتنا ہی بھارت کے نزدیک ہے ۔ شائد کچھ زیادہ ہی کہ سعودی عرب نے پاکستان سے زیادہ بھارت میں سرمایہ کاری کررکھی ہے ۔ اور ابھی جب ’’پہلگام‘‘ کا واقعہ رُونما ہُوا، اُس روز بھی بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی ، سعودیہ کے دو روزہ دَورے پر تھے ۔ مبینہ طور پر ایران اور سعودیہ نے ثالثی کی پیشکش کرتے ہُوئے پاک بھارت کشیدگی ختم کروانے کی کوشش کی ہے ۔ ایسی کسی بھی کوشش کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے ۔

شنید ہے کہ سعودی وزیر خارجہ (جناب فیصل بن فرحان السعود) نے نئی دہلی اور اسلام آباد میں اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے ۔ اگرچہ اس گفتگو کی تفصیلات ہنوذ منصہ شہود پر نہیں آ سکی ہیں ، مگر ہم گمان کر سکتے ہیں کہ اِس گفتگو میں پاکستان اور بھارت میں بقائے باہمی اور امن ہی کی بات چیت کی ہوگی ۔

چین ، سعودیہ اور امریکا کی مبینہ کوششیں اپنی جگہ ، مگر پاکستان کی مسلح افواج منڈلاتے خطرات سے غافل نہیں رہ سکتیں ۔ بھارتی جارحانہ اور اشتعال انگیز بیانات مسلسل جاری ہیں ۔ ایل او سی پر بھارتی فورسز نے ، بِلا اشتعال ، فائرنگ کی ہے ۔ اِس کا ہماری طرف سے بروقت طاقتور جواب دیا گیا ہے ۔

مبینہ طور پر بھارتی رافیل طیاروں نے کشمیر میں پٹرولنگ بھی کی ہے ۔ جواباً جب ہمارے شاہین فضا میں بلند ہُوئے تو پاک فضائیہ کے جانبازوں کے تیور دیکھ کر رافیل والے غائب ہو گئے ۔ پاکستانی افواج نے ایل او سی پر دو بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹرز بھی مار گرائے ہیں۔ اِس کشیدگی کے ماحول میں ہمارے وزیر دفاع، خواجہ محمد آصف، جس اسلوب و انداز میں پاکستان کے دفاعی و نظریاتی محاذ پر ڈٹے ہُوئے نظر آ رہے ہیں، قابلِ تحسین ہے ۔ خواجہ صاحب کا اندازِ گفتگو بھارتیوں کے اعصاب پر بم بن کر گر رہا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں میں پاکستان اور امریکا سکتے ہیں میں پاک کہ پاک ہیں کہ

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار