چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، مختلف سیکٹرز میں ترقیاتی کاموں کی ابتک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، مختلف سیکٹرز میں ترقیاتی کاموں کی ابتک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ WhatsAppFacebookTwitter 0 1 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود، ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ممبر پلاننگ ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن، ڈی ج ریسورس سی ڈی اے، ڈی سی سی ڈی اے سمیت دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکٹر سی چودہ، سی پندرہ، سی سولہ، ای بارہ، آئی بارہ، ایچ سولہ، پارک انکلیو ، شاہین چوک، فیض آباد انٹر چینج اور کشمیر چوک کے حوالے سے ہونے والے ترقیاتی کاموں کی ابتک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد کی تعمیر وترقی اور سیکٹرز ڈویلپمنٹ کے کام کو نہ صرف مزید تیز کیا جائے بلکہ معیار اور کوالٹی پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن سیکٹرز میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں وہاں پر سی ڈی اے کے متعلقہ ڈائریکٹوریٹس خصوصا ڈی سی سی ڈی اے اپنے متعلقہ عملہ کے ہمراہ دفتر قائم کریں تاکہ لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں مدد مل سکے۔ اس کے علاوہ کیمپ آفیسز میں عوام کے تمام مسائل کو شفافیت، قانون و انصاف کے تمام تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نئے سیکٹرز میں جدید اور خوبصورت لائٹس اور روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے نئے تمام سیکٹرز کے مرکزی راستوں کو کشادہ کرنے اور تمام تجاوزات و غیر قانونی تعمیرات کو قانون کے مطابق ہٹانے کی ہدایت کی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے پارک انکلیو میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کے سیکٹرز کے ترقیاتی کاموں میں حائل تمام رکاوٹوں کو ترجیح بنیادوں پر دور کیا جائے تاکہ ترقیاتی کام مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ چیرمین سی ڈی اے نے سی ڈی اے کے کمرشل پلاٹس اور دکانوں کی شاندار کامیابی پر تمام متعلقہ ونگز کی کارکردگی کو سراہا۔ انہو ں نے فنانس ونگ کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کے لئے مناسب فنڈز مختص کیے جائیں چیرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ ڈپلومیٹک انکلیو انکلیو کی اپ لنفٹنگ کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے کا سیدپور ماڈل ویلج میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، مقامی افراد کا شدید احتجاج سی ڈی اے کا سیدپور ماڈل ویلج میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، مقامی افراد کا شدید احتجاج پاک-چین دوستی وقت کی ہر کسوٹی پر پوری اتری ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر میانوالی جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: پی ٹی آئی کے 50 رہنما و کارکن اشتہاری قرار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا بھارت کیخلاف فیٹف جانے کا اعلان اسلام آباد میں جعلی وکیل کا بھانڈا پھوٹ گیا،ٹک ٹاک پر کیسے لوگوں کو بیوقوف بناتا رہا؟ امریکی ٹیرف کا عالمی نفاذ شروع، پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں رعایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے ترقیاتی کاموں میں ترقیاتی سیکٹرز میں
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔