Islam Times:
2026-06-02@23:04:21 GMT

پاکستان میں تشیع کی سیاسی جدوجہد اور قیادتیں(9)

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

پاکستان میں تشیع کی سیاسی جدوجہد اور قیادتیں(9)

اسلام ٹائمز: 24 جولائی 2022ء کو 92 سال کی عمر میں سید حامد علی شاہ موسوی وفات پاگئے، نماز جنازہ 25 جولائی گیارہ بجے دن مرکزی امام بارگاہ جامعۃ المرتضیٰ جی نائن فور اسلام میں ادا کی گئی اور آغا حامد علی شاہ موسوی کے بعد انکی جماعت کی سپریم کونسل نے 21 اکتوبر 2022ء کو آغا سید حسین مقدسی کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کا سربراہ منتخب کیا۔ آغا سید حسین مقدسی، آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے شاگرد خاص بتائے جاتے ہیں۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر

ہم جب شیعہ قومی قیادتوں، جماعتوں اور پلیٹ فارمز کا تذکرہ کر رہے ہیں تو اس میں ایک اہم پلیٹ فارم، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان(TNFJ) کا ذکر ہم چھوڑ گئے تھے۔ اس لیے کہ ایک ترتیب چل رہی تھی، اس کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ تحریک نفاذ فقہ فقہ جعفریہ پاکستان سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں قائد ملت مفتی جعفرحسین کی رحلت کے بعد سے اپنا وجود رکھتی ہے، یہ تحریک دراصل مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد آنے والے توقف میں اسی وقت وجود میں آئی، جب بھکر میں مفتی جعفر حسین کی تحریک کی سپریم کونسل کے اراکین نے قومی اجتماع منعقد کیا اور علامہ عارف حسین الحسینی کی مجاہدانہ و مبارز، انقلابی قیادت کو منتخب کیا۔ انہی ایام میں 9، 10 فروری 1983ء کو اسد آباد دینہ، جہلم کے مقام پر جناب آغا سردار علی جان کی سرپرستی میں ان کا چنائو ہوا۔

اس سے قبل بعض روایات اور تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ جب قوم کی قیادت کوئی نہیں کر رہا تھا تو راولپنڈی کے علماء نے اس موقع پر انہیں قیادت کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی تھی اور بعض کے بارے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے چادر سیدہ (س) کا واسطہ دیا تھا، جس پر سید حامد علی شاہ نے یہ شرط عائد کی کہ قوم کو بلایا جائے، اس مقصد کیلئے معروف عزادار، بانی آغا سردار علی جان نے خدمات پیش کیں اور اپنے تاریخی امام بارگاہ میں اجتماع منعقد کیا۔ اس موقع پر بقول راویان کثیر تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔ دو روزہ اجتماع 9-10 فروری 1983ء کو اسد آباد، دینہ جہلم میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے صدر ضمیر الحسن نجفی اور اظہر حسن زیدی تھے۔ اس کے علاوہ مرزا یوسف حسین لکھنوی، بشیر حسین انصاری فاتح ٹیکسلا، علامہ عرفان حیدر عابدی، شاعر محسن نقوی بھی موجود تھے، انہیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کا قائد چنا گیا۔

قبلہ علامہ سید حامد علی شاہ موسوی 12 مئی 1930ء کو صوبہ سندھ کے شہر گٹ خان صاحب سید شیر شاہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی شہر پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ضلع چکوال ہے۔ انہوں نے اپنے والد کو بچپن میں کھو دیا اور پھر اپنے آبائی شہر چکوال چلے گئے۔ سید حامد موسوی نے اپنی ابتدائی تعلیم کریالہ سیکنڈری اسکول سے اور ابتدائی مذہبی تعلیم غلام قنبر فاضل لکھنؤ سے حاصل کی۔ بعد ازاں 1954ء میں انہیں دارالعلوم محمدیہ سرگودھا میں داخل کرایا گیا، جہاں انہوں نے عربی ادب، فصاحت، منطق، فلسفہ، اصول فقہ اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ بعد وہ مدرسہ تعلیم کے لیے عراق کے شہر نجف اشرف مدرسہ میں تشریف لے گئے۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سید حامد علی شاہ موسوی کو چونکہ اس وقت کے خطباء و ذاکرین گروپس کی مکمل حمایت حاصل تھی، لہذا انہیں قومی امور کی انجام دہی، حکومتوں سے معاملات کرنے اور اہل تشیع کے حقوق کی پاسداری کے بہت زیادہ مواقع میسر تھے، چونکہ قوم کی اکثریت ذاکرین و خطباء کو سنتی چلی آرہی ہے تو عوام کی بڑی تعداد کے ذریعے کوئی بھی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں، مگر ہم تاریخ کے طالبعلم کے طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں اس حوالے سے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ اپنی جماعت کو ملک بھر میں اس طرح نہیں پھیلایا، جیسا کہ ان کے پاس چانس تھا۔ قیادت، اجتماعی امور، سیاسی امور، سیاستدانوں سے روابط، شاید ان کے مزاج کے خلاف کوئی کام تھا۔ وہ ساری عمر علی مسجد سیٹلائٹ ٹائون راولپنڈی مقیم رہے، البتہ شروع کے دنوں میں انہوں نے مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاجی گرفتاریوں کی تحریک چلائی تھی۔

یاد رہے کہ جب آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے TNFJ کی قیادت سنبھالی تو پاکستان کو جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا سامنا تھا، جس میں انسانی اور سیاسی آزادیاں سلب تھیں اور مکتب تشیع کو بالخصوص شدید تعصب کا سامنا تھا۔ اسی دوران میں ضیاء الحق نے پولیس ایکٹ کی دفعہ تیس (30) میں ترمیم کرتے ہوئے مذہبی جلوسوں پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ اس پابندی کا مطلب عاشورا سمیت عزاداری کے تمام جلوسوں اور میلادالنبی وغیرہ کے اجتماعات پر پابندی تھی۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس پابندی کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اکتوبر 1984ء کو حسینی محاذ ایجی ٹیشن کا اعلان کر دیا اور 10 محرم کے روز جیل بھرو تحریک شروع کی۔ مارشل لائی حکومت نے آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو فوارہ چوک راولپنڈی سے گرفتار کر لیا اور ملک بھر میں شیعہ عوام آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں احتجاج پھیلتا گیا۔

بہت سے شہروں میں احتجاج، مظاہرے ہونے لگے اور گرفتاریوں کا سلسلہ زور پکڑتا گیا۔ ہر روز 5، جمعرات کو 12 اور جمعہ کو 14 گرفتاریاں پیش کی جاتیں۔ اس دوران میں دو افراد صفدر علی نقوی اور اشرف علی رضوی حکومتی تشدد سے شہید ہوگئے، جس کے سبب حسینی محاذ ایجی ٹیشن میں مزید قوت پیدا ہوگئی۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں جب محمد خان جونیجو کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا اور بالآخر 21 مئی 1985ء کو مکتب تشیع اور حکومت کے مابین تاریخی معاہدہ طے پا گیا، جسے موسوی جونیجو معاہدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ معاہدے کی رو سے یہ طے پایا کہ عزاداری امام حسین ؑ اور میلاد النبی ؐ کے جلوس حکومتی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اس تحریک کے علاوہ ہم کسی بڑے تاریخی کام یا بڑی کامیابی کا تذکرہ شاید نہ کرسکیں۔ اس لیے کہ قبلہ حامد علی شاہ موسوی کے دور میں قائد شہید ایک وسیع سوچ و فکر اور مکمل فعالیت کیساتھ میدان عمل میں موجود تھے۔ شہید قائد پورے پاکستان کے دورہ جات کرتے تھے، یونٹوں تک پہنچتے تھے، جبکہ سید حامد علی شاہ موسوی کے بارے عمومی تاثر یہی تھا کہ وہ دس محرم کے جلوس کے ذوالجناح کی باگ پکڑنے کیلئے علی مسجد سے باہر نکلتے تھے، البتہ ان کے پریس کو دیکھنے والے صاحبان کافی بہتر روابط کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی یہ تصاویر قومی اخبارات میں اہم جگہوں پہ شائع کروا لیتے تھے، جبکہ محرم ایڈیشن میں ان کے مضامین ریگولر چھپتے تھے۔ ان مضامین کے علاوہ ان کا کوئی علمی کام ہمیں نظر نہیں آیا۔ اسی طرح قائد ملت علامہ سید ساجد علی نقوی کا بھی علمی کام کہیں دکھائی نہیں دیتا، جیسا علامہ شیخ محسن نجفی کا موجود ہے۔

24 جولائی 2022ء کو 92 سال کی عمر میں سید حامد علی شاہ موسوی وفات پاگئے، نماز جنازہ 25 جولائی گیارہ بجے دن مرکزی امام بارگاہ جامعۃ المرتضیٰ جی نائن فور اسلام میں ادا کی گئی اور آغا حامد علی شاہ موسوی کے بعد ان کی جماعت کی سپریم کونسل نے 21 اکتوبر 2022ء کو آغا سید حسین مقدسی کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کا سربراہ منتخب کیا۔ آغا سید حسین مقدسی، آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے شاگرد خاص بتائے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان ا غا سید حامد علی شاہ موسوی حامد علی شاہ موسوی کے کی قیادت انہوں نے 2022ء کو کے بعد

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان