ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی ویزا لینے کیلئے ایک اور شرط رکھ دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
امریکی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ویزا چاہیئے تو 15 ہزار ڈالرز ضمانت جمع کروانا پڑیگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن ملکوں کے لوگ امریکا آکر واپس نہیں جاتے، اب ان ملکوں سے آنیوالوں کو 15 ہزار ڈالرز کا بانڈ بھرنا پڑیگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کا ویزا لینے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک نیا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام نے ویزا کے حصول کے لیے ایک پائلٹ پروگرام متعارف کروایا ہے۔ امریکی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ویزا چاہیئے تو 15 ہزار ڈالرز ضمانت جمع کروانا پڑے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن ملکوں کے لوگ امریکا آکر واپس نہیں جاتے، اب ان ملکوں سے آنے والوں کو 15 ہزار ڈالرز کا بانڈ بھرنا پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق وقت پر واپس جانے والوں کو پیسے واپس مل جائیں گے جبکہ 20 اگست سے شروع ہونے والا پائلٹ پروگرام تقریباً ایک سال تک جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہزار ڈالرز رپورٹ میں گیا ہے کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔