Islam Times:
2026-07-24@10:53:28 GMT

امریکا، بھارت اور ٹیرف کی جنگ

اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT

امریکا، بھارت اور ٹیرف کی جنگ

اسلام ٹائمز: ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اندرونی سطح پر سیاسی ہم آہنگی پیدا کرے۔ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے بجائے قومی سیاسی دھارے کا حصہ بنایا جائے، تاکہ قومی پالیسیوں میں وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہو۔ اگر ہم داخلی طور پر کمزور رہے تو بیرونی دنیا میں ہماری آواز نہ صرف غیر مؤثر ہوگی بلکہ عالمی قوتیں ہماری اس کمزوری سے اپنے مفادات کیلئے فائدہ بھی اٹھا سکتی ہیں۔ دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں اقتصادی پابندیاں، سفارتی چالاکیاں اور اسٹریٹجک داؤ پیچ اصل ہتھیار ہیں۔ اس بدلتی دنیا میں پاکستان کو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ اپنی حیثیت کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ شرط صرف ایک ہے، خود مختاری، دانشمندی اور قومی وحدت۔ تحریر: نادر بلوچ

امریکا اور بھارت کے مابین پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی محض دو معیشتوں کی باہمی رسہ کشی نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک وسیع تر عالمی حکمتِ عملی اور طاقت کے توازن کی بازترتیب کارفرما ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر یکے بعد دیگرے ٹیرف عائد کرنے، بعض مصنوعات پر پچیس فیصد تک درآمدی ڈیوٹی لگانے اور مزید سخت اقتصادی اقدامات کی دھمکی دینے کا معاملہ معمولی تجارتی چپقلش سے کہیں زیادہ گہرا اور پرمعانی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی بیانیے کو "MAGA" یعنی Make America Great Again کے نعرے کے گرد استوار کیا۔ اس نعرے کی عملی تعبیر مقامی صنعتوں کی بحالی، درآمدات پر انحصار میں کمی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ تھی۔ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکی مارکیٹ چینی اور بھارتی مصنوعات سے بھری پڑی ہے۔ یہ اشیاء نہ صرف قیمت میں سستی ہیں بلکہ وہ امریکی پیداوار کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ نتیجتاً، ملکی صنعتیں بند ہو رہی ہیں، روزگار کے مواقع سمٹتے جا رہے ہیں اور قومی سرمایہ بیرونِ ملک بہہ رہا ہے۔

اسی تناظر میں ایک چونکا دینے والا مگر غیر مبہم فیصلہ سامنے آیا کہ امریکا نے ایپل کمپنی کو بھارت میں اپنا پیداواری یونٹ بند کرنے کی ہدایت کی۔ یہ اقدام بظاہر ایک کاروباری فیصلہ لگتا ہے، لیکن دراصل یہ امریکی اقتصادی تحفظ پسندی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ مقصد صاف ہے: ایسے ممالک میں تیار ہونے والی کم لاگت مصنوعات کو امریکی منڈی میں مہنگا کر دیا جائے، تاکہ امریکی صارفین مقامی مصنوعات کی جانب راغب ہوں اور ملکی صنعت کو سانس لینے کا موقع ملے۔ بھارت کے لیے یہ صورتحال خاصی پریشان کن ہے۔ اس کی امریکا کو برآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جبکہ امریکی مصنوعات بھارتی مارکیٹ میں محدود پیمانے پر داخل ہو پاتی ہیں۔ اس عدم توازن کو ٹرمپ انتظامیہ ایک ناقابلِ قبول خسارے کے طور پر دیکھتی ہے۔ چین کے بعد بھارت بھی اسی فہرست میں شامل ہوچکا ہے، جسے امریکا اپنے اقتصادی مفادات کے لیے خطرہ تصور کر رہا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی واضح ہے: یا تو معاہدے پر ازسرنو بات چیت کی جائے، یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہا جائے۔ یہی اس کا رویہ روس کے ساتھ بھی ہے۔

ایسے میں پاکستان کی حیثیت نہایت اہم ہوگئی ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد خطے میں پاکستان کی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت ازسرنو نمایاں ہوئی ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات، خصوصاً سی پیک جیسے منصوبے، پاکستان کو ایک علاقائی مرکزیت فراہم کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے نرم رویہ اختیار کرنا اور بھارت کو تجارتی شکنجے میں کسنا، اس امر کا مظہر ہے کہ امریکا جنوبی ایشیاء میں اپنی حکمتِ عملی کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال ایک اہم موقع بھی ہے اور آزمائش بھی۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا فائدہ صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے، جب اسلام آباد اپنی خودمختاری کو مجروح کیے بغیر توازن کی پالیسی اپنائے۔ اگر ہم اندرونی سیاسی عدم استحکام کے باعث یا کسی خارجی دباؤ میں آکر اپنے معدنی وسائل یا قومی مفادات ارزاں نرخوں پر پیش کرنے لگیں، تو یہ وقتی فائدہ درحقیقت طویل المدت نقصان میں بدل جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اندرونی سطح پر سیاسی ہم آہنگی پیدا کرے۔ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے بجائے قومی سیاسی دھارے کا حصہ بنایا جائے، تاکہ قومی پالیسیوں میں وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہو۔ اگر ہم داخلی طور پر کمزور رہے تو بیرونی دنیا میں ہماری آواز نہ صرف غیر مؤثر ہوگی بلکہ عالمی قوتیں ہماری اس کمزوری سے اپنے مفادات کے لیے فائدہ بھی اٹھا سکتی ہیں۔ دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں اقتصادی پابندیاں، سفارتی چالاکیاں اور اسٹریٹجک داؤ پیچ اصل ہتھیار ہیں۔ اس بدلتی دنیا میں پاکستان کو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ اپنی حیثیت کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ شرط صرف ایک ہے، خود مختاری، دانشمندی اور قومی وحدت۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اپنے مفادات میں پاکستان دنیا میں کے لیے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز