بھارتی فوج کا مقبوضہ کشمیر میں شدید پاکستانی گولہ باری کا اعتراف، تین سویلین مرنے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
سٹی42: پاکستان میں رات کے اندھیرے میں تین مساجد، آٹھ سویلین شہید کرنے اور 35 شہریوں کو زخمی کرنے کے بعد بھارت نے واویلا شروع کر دیا کہ پاکستان کی شدید گولہ باری سے کشمیر میں بھارت کے مقبوضہ حصہ میں تین سویلین مارے گئے ہیں۔
انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے یہ خبر کچھ دیر پہلے دی ہے کہ بھارت کہہ رہا ہے کہ پاکستانی فوج کی گولہ باری سے 3 افراد ہلاک ہوئے۔
مقبوضہ کشمیر سے فائل کی گئی خبر میں انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ بھارتی فوج کہہ رہی ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستانی گولہ باری میں تین شہری مارے گئے۔
میچ کے دوران بولر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا
انڈین آرمی کے واویلا میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے متنازعہ کشمیر کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کرنے والی ڈی فیکٹو سرحد کے پار "من مانی فائرنگ کر رہا ہے"۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گولہ باری
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔