سٹیٹ بینک ہوم انڈسٹری کے فروغ کیلئے کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی یقینی بنائے،خرم طارق
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 مئی2025ء)ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کے سابق صدرڈاکٹر خرم طارق نے کہاکہ مقامی صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے سمیت ہوم انڈسٹری کے فروغ کیلئے وافر مقدار میں کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کی غرض سے بینک دولت پاکستان فوری اقدامات یقینی بنائے تاکہ ملک میں اقتصادی و معاشی استحکام میں مدد مل سکے۔
ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہاکہ شرح سود میں کمی بہتر ہونیوالے معاشی اعشاریوں کے استحکام کی سمت ایک اہم قدم ہوگاجس سے ملک میں ہوم انڈسٹری اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کے احیاکی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کو ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن کی وجہ سے کاروباری صورتحال سے نمٹنے،مقامی صنعتوں اور خاص طور پر چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو وافر مقدار میں کم شرح سود پر قرض مہیا کیا جا سکے،اگر صنعتوں کیلئے کم شرح سود پر سرمایہ مہیا کیا گیا تو اس سے نہ صرف نئی صنعتیں لگیں گی بلکہ اس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔(جاری ہے)
مزید برآں صنعتی پیداوار میں اضافہ سے برآمدات بڑھیں گی اور اسکی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کے ساتھ ساتھ حکومتی محاصل میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی معاشی اعشاریوں میں بہتری اور شرح سود میں کمی کے ثمرات عوام تک منتقل کرنے کیلئے بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ عوام کو ریلیف مہیا ہوسکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔