جدہ:سینئرصحافی عمرفاروق کےاعزازمیں عشائیہ، سیزفائرکےاعلان پرصحافیوں کا اظہارتشکر
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
جدہ:سینئرصحافی عمرفاروق کےاعزازمیں عشائیہ، سیزفائرکےاعلان پرصحافیوں کا اظہارتشکر WhatsAppFacebookTwitter 0 11 May, 2025 سب نیوز
جدہ (خالد نواز چیمہ) ریاض سے تشریف لائے ہوئے پاک اوورسیز میڈیا فورم کے سینئرصحافی محمد عمرفاروق کے اعزازمیں فورم کے ممبران نےمقامی ہوٹل میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔ جس کی صدارت فورم کے سرپرستِ اعلیٰ سید مسرت خلیل نے کی۔
اوورسیز میڈیا فورم کے صدرشعیب الطاف راجہ نے مہمان خصوصی محمد عمر فاروق کا خیرمقدم کرتے ہوئےان کی صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے ہندوستان اور پاکستان کی حالیہ جنگ کے دوران سیزفائر کے اعلان پربھی خوشی کا اظہارکیا اور جدہ کی صحافی برادری کی جانب سے پوری قوم کو مبارکباد دی اور پاک فوج کی خدمات، شجاعت، جنگی مہارتوں، کارناموں اورکامیابیوں کو سراہا۔ انھوں نے خاص طور پرجنرل آصف منیرکی قیادت میں کی گئی غیرمعمولی جنگی حکمت عملی پر روشنی ڈالی اورکہا کہ فوج نے جس عزم اورحوصلہ کے ساتھ دشمن کو منہ توجواب دیا وہ قابل ستائش ہے۔
صدر اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن خالد نواز چیمہ نے کہا کہ جنرل آصف منیرنے اپنے کردار سے نہ صرف فوج کے جوانوں بلکہ عوام میں بھی امید اور جذبے کو بڑھایا ہے۔ ان کی مہارت اور قیادت کی مثالیں آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں گی۔
سید مسرت خلیل نے اپنےصدارتی خطاب میں سپہ سالارجنرل آصف منیرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مشکل حالات میں مہارت اور حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی سالمیت کو یقینی بنایا۔ تقریب سے ملک عدیل ریاض کھوکھر، محمد عدیل، شعیب الطاف راجہ، مرزا مدثرا میاں محی الدین، شباب بھٹہ یہی اشفاق نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیا۔قبل ازیں محمد عدیل کی تلاوت قران پاک سےتقریب کا آغاز ہوا۔ ناظمِ تقریب میاں محی الدین نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ ۔آخر میں عمرفاروق نے میزبا نوں کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ تقریب میں شریک تمام صحافیوں نے ملک کی ترقی اور دفاع کے لیے یکجہتی کے ساتھ مل کرکام کرنے کے عزم اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ پر اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت مزید 21 فلسطینی شہید بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد سخت گیر جنرل عاصم منیر دو قومی نظریے پر پورا یقین رکھتے ہیں: برطانوی اخبار جنگ بندی کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا، بھارتی عہدیدار ہم نے پیغام دیا کہ نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور بھی کرسکتے ہیں، وزیر دفاع امید ہے پاک بھارت جنگ بندی دیرپا ہوگی: پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل بھارت ناکام ہو گیا، پاکستانی افواج فاتح بن کر ابھریں، برطانوی صحافیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔