غزہ میں امداد رسانی سے متعلق اسرائیلی منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں، عرب سفارت کار
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اقوام متحدہ میں عرب ممالک کے گروپ کے نمائندے نے سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران کہا کہ صیہونی حکومت کو فوری طور پر غزہ کے راستے کھولنے چاہییں تاکہ امدادی سامان اندر داخل ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں عرب ممالک کے گروپ کے نمائندے نے سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران کہا کہ صیہونی حکومت کو فوری طور پر غزہ کے راستے کھولنے چاہییں تاکہ امدادی سامان اندر داخل ہو سکے۔ فارس نیوز کے مطابق، اقوام متحدہ میں عرب ممالک کے گروپ کے نمائندے نے بدھ کی صبح سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران کہا کہ صیہونی حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر غزہ کے راستے کھولے اور امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دے۔ اس عرب سفارتکار نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں، جو غزہ کی صورت حال پر منعقد ہوا، کہا کہ ہم اسرائیل کی امداد رسانی سے متعلق تجویز کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ الجزیرہ چینل نے ان کے حوالے سے رپورٹ دیا کہ ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اور بغیر کسی رکاوٹ کے امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے دے اور تمام راستے کھولے۔ عرب ممالک کے نمائندے نے مزید کہا کہ اونروا کے بارے میں اسرائیل کے اقدامات غیر منصفانہ ہیں اور ان کا مقصد فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ عالمی برادری کو ان خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے نمائندے نے سلامتی کونسل عرب ممالک کے فوری طور پر کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :