نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2025ء)سیز فائر کو پاکستان کی مجبوری قرار دینے والے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھارتی تجزیہ کاروں نے آئینہ دکھا دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی سینئر تجزیہ کار مینو جین نے بھارتی ٹی وی پر پاک بھارت کشیدگی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیت پاکستان کی ہوئی ہے، مودی گھٹنوں کے بل چل کر ٹرمپ کے پاس گئے، ٹرمپ کو بیک ڈور سے بلوایا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ مودی نے ملکی عزت کو ٹرمپ کے قدموں میں رکھ دیا، رفال کی ناکامیاں اجاگر نہ ہوجائیں اس لیے مودی جی کو سیز فائر کرنا ہی تھا۔دوسری جانب بھارتی سابق وزیر ارون شوری نے بھی لائیو شو کے دوران بھارتی میڈیا کے احمقانہ دعوں پر سخت تنقید کی۔انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ سے متعلق کہا کہ یہ اب صرف گودی میڈیا نہیں بلکہ مودی میڈیا بن گیا ہے۔بھارتی سابق وزیر ارون شوری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور لاہور پر قبضہ ہو گیا، کراچی پورٹ تباہ ہوگیا جیسی باتوں پر دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن