پاکستان و روس توانائی، دفاع، سیکیورٹی میں تعاون کر رہے ہیں: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی —اسکرین گریپ روسی میڈیا
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور روس توانائی، دفاع اور سیکیورٹی میں تعاون کر رہے ہیں۔
ماسکو میں روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ روڈ اور ریل نیٹ ورک سے روابط کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ روسی صدر پیوٹن کا ویژن خطے کے استحکام کے لیے اہم ہے، تجارت اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔