’بھارت کو جارحیت کا بھرپور جواب ملا ، الحمدللہ ‘، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بھارت نے جھوٹے بہانے ، تکبر اور انا کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کی جس کا اسے بھرپور جواب ملا ، الحمدللہ۔
بدھ کو وزیراعظم شہبازشریف نے پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ کیا جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ آصف ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور سربراہ پاک فضائیہ ظہیر بابر سدھو بھی وزیراعظم کے ساتھ تھے اور انہیں آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم کا خطاب
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بہادر افواج نے مادر وطن کا بھرپور دفاع کیا اور پاکستان کو اپنے بہادر بیٹوں پر بے پناہ فخر ہے جبکہ پاک افواج کے جوان قوم کے سر کا تاج ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کے خلاف کھلی جارحیت کی گئی اور بچوں، خواتین اور بزرگوں کی شہادتیں ہوئیں جبکہ معصوم شہریوں کو دہشتگرد کہنا شرمناک ، عالمی قوانین ، اصولوں اور اخلاقیات کیخلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیقات کی پیشکش کے باوجود بھارت نے جان بوجھ کر ایسا راستہ اختیار کیا، بھارت کے پاس ثابت کرنے کیلئے کچھ نہیں تھا اور اس نے جھوٹے بہانے ، تکبر اور انا کی بنیاد پر جارحانہ کارروائی شروع کی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ یاد رکھے گی کس طرح چند گھنٹے میں دشمن کی جارحیت ناکام بنائی گئی جبکہ شہدا ہمیشہ قوم کیلئے سرخرو رہے ہیں اور ہمیشہ سرخرو رہیں گے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا کہنا
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔