چین پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر کو مستقل بنانے کیلئے متحرک
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر کو مستقل بنانے کیلئے متحرک ہوگیا اور کہا دونوں ملکوں میں پائیدار جنگ بندی کیلئے تعمیری کردار کی پیشکش کردی۔
تفصیلات کے مطابق بیجنگ میں چینی نائب وزیرخارجہ سن وڈونگ نے پاک بھارت سفیروں سے ملاقاتیں کیں۔
چینی نائب وزیر خارجہ نے پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی سےملاقات میں پاک بھارت سیز فائر کا خیرمقدم کیا اور ملاقات میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سن ویڈونگ نے کہا چین پاکستان اور بھارت کی جانب سے جامع اور دیرپا جنگ بندی کے حصول کا خیرمقدم اورحمایت کرتا ہے اور دونوں ملکوں میں پائیدار جنگ بندی کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
چینی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں میں پائیدار جنگ بندی کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، چین پاکستان اور بھارت کی جانب سے جامع اور دیرپا جنگ بندی کے حصول کا خیرمقدم اورحمایت کرتا ہے۔
واضح رہے بھارت نے سات اور آٹھ مئی کی درمیانی شب پھر دراندازی کی کوشش کی اور اسے ‘آپریشن سندھور’ کا نام دیا گیا ، جس میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا اور 31 شہری شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
بعد ازاں پاک فوج کی جانب سے بھارت کے کیخلاف آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا ، جس میں پاک فضائیہ کے جے ایف سیونٹین تھنڈر نے جدید ترین ایس فور ہنڈریڈ ایئر ڈیفنس سسٹم تباہ کرکے بھارت کی فضائی ڈھال پاش پاش کردی جبکہ ناگروٹا میں براہموس میزائل کا ذخیرہ بھسم کردیا اور پاکستان کے عوام پر حملہ کرنے والی ایئربیسز کو ملیامیٹ کردیا گیا۔
جس کے بعد ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہفتے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چین پاکستان اور بھارت کے درمیان بھارت کے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔