حوصلے کا قلم، یقین کی انگلیاں، کوئٹہ کے رفیع اللہ کی بے مثال کہانی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
کوئٹہ کے ایک امتحانی مرکز میں جب سب طلبا و طالبات اپنے ہاتھوں میں پکڑے قلموں سے خوابوں کو کاغذ پر اتار رہے تھے، وہیں ایک ایسا نوجوان بھی موجود تھا جس کا قلم اس کے پیروں کی انگلیوں میں تھا۔ یہ صرف امتحانی پرچہ حل کرنے کا منظر نہیں تھا، بلکہ حوصلے، عزم اور خودداری کی ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی۔
خصوصی صلاحیتوں کے حامل رفیع اللہ نے اپنی ہمت سے ثابت کر دیا کہ اگر ارادے سچے ہوں تو جسمانی کمزوریاں کبھی منزل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔
رفیع اللہ کے قلم سے نکلنے والے الفاظ گویا حوصلے کی روشنائی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ہر سطر، ہر لفظ اس کی جدوجہد اور حوصلے کی گواہی دے رہا تھا۔ اس کے پاؤں کی انگلیاں صرف کاغذ پر نہیں چل رہی تھیں، بلکہ دنیا کو یہ پیغام دے رہی تھیں کہ معذوری جسم میں نہیں ہوتی بلکہ سوچ اور جذبے میں ہوتی ہے۔
زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرتے ہوئے رفیع اللہ نے کبھی ہار نہیں مانی۔ اس کی آنکھوں میں خوابوں کی چمک آج بھی ویسی ہی روشن ہے۔ رفیع اللہ نے بتایا کہ جو لوگ ہار مان لیتے ہیں، وقت ان کے وجود کو مٹا دیتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے کہ گر کر اٹھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
رفیع اللہ کا خواب ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بنے اور انسانیت کی خدمت کرے۔ اپنی زندگی کی مشکلات کو ہمت کا ہتھیار بنا کر وہ نہ صرف اپنے لیے، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے جو کسی نہ کسی محرومی کا شکار ہیں۔
یہ کہانی محض ایک طالب علم کی نہیں، بلکہ عزم و ہمت کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ رفیع اللہ کے پیروں کی انگلیوں میں تھاما ہوا قلم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جو لوگ خود پر یقین رکھیں، ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ پہاڑ بن کر نہیں آسکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رفیع اللہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔