گلگت بلتستان اسمبلی کی بھارتی جارحیت کے خلاف قراردادیں متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
گلگت بلتستان اسمبلی نے حالیہ بھارتی جنگی جارحیت کے خلاف اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے عوام بھارتی عزائم خاک میں ملا دینے کے لیے پرعزم
یہ قراردادیں ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کی جانب سے پیش کی گئیں جن میں افواج پاکستان کے کامیاب دفاعی اقدامات اور قوم کی جرات کو سراہا گیا۔
قرارداد میں آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے تحت پاک فوج کی بروقت اور بھرپور کارروائی کو عسکری تاریخ کا سنہری باب قرار دیا گیا۔ ایوان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 5 روزہ جنگ نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستانی قوم نہ صرف باوقار اور غیرت مند ہے بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل بھی ہے۔
قراردادوں میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی حکومت، افواج، ذرائع ابلاغ اور عوام نے قومی وقار کا بے مثال مظاہرہ کیا۔
بھارت کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کو صرف 5 دن میں شکست میں بدل دینا، افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی یکجہتی کا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیے: آپریشن بنیان مرصوص: پاک فوج کی پٹھان کوٹ کو ٹارگٹ کرنے کی ویڈیو منظرعام پر
ایوان نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جنگی حکمتِ عملی، خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے جارحانہ عزائم اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے اقدامات کا سنجیدہ نوٹس لے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
قائد ایوان وزیر اعلی حاجی گلبر خان کا خطابقائد ایوان گلگت بلتستان اسمبلی حاجی گلبر خان نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی تاہم افواجِ پاکستان نے جس جرات اور حکمت سے دشمن کا مقابلہ کیا وہ قابل فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور گلگت بلتستان کے عوام افواج پاکستان کو خراج تحسین اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں امن وامان خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنادیا، وزیراعلیٰ
حاجی گلبر خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گلگت بلتستان کے عوام سنہ 1947 سے پاکستان کی حکومت اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور حالیہ جنگ کے دوران بھی عوام نے اپنی افواج سے بھرپور محبت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن بنیان مرصوص پاک بھارت کشیدگی گلگت بلتستان گلگت بلتستان اسمبلی گلگت بلتستان قرارداد معرکہ حق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص پاک بھارت کشیدگی گلگت بلتستان گلگت بلتستان اسمبلی گلگت بلتستان قرارداد معرکہ حق گلگت بلتستان اسمبلی بنیان مرصوص کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک