وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے موثر سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے، بھارت نے بلا جواز سویلین آبادی کو ٹارگٹ کر کے بے گناہ شہریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے عوام نے بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جس قوم میں شہادت پانے کا جذبہ موجود ہو اس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، انڈیا کو بلا جواز مسلط کی گئی جنگ میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ ایل او سی زیرو پوائنٹ بگنہ پہنچ گئے، لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت سے شہید ہونے والے علی احمد بٹ کے ورثاء سے اظہار تعزیت، فاتحہ خوانی کی اور شہید کے والد کو فیڈرل گورنمنٹ کی طرف سے ایک کروڑ کا امدادی چیک دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ انڈیا نے دوبارہ غلطی کی تو اس سے بڑھ کر جواب ملے گا، ہمیں اپنی مسلح افواج اور حکومت پر پورا اعتماد ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان نے موثر سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے، بھارت نے بلا جواز سویلین آبادی کو ٹارگٹ کر کے بے گناہ شہریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے عوام نے بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آپ کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں حکومت پاکستان، افواج پاکستان آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، دشمن کو دندان شکن جواب دینے پر افواج پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے متاثرین کی بحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر رانا ثناء رانا ثناء اللہ لائن آف کنٹرول اللہ نے کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ