جس قوم میں شہادت کا جذبہ موجود ہو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا، رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے موثر سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے، بھارت نے بلا جواز سویلین آبادی کو ٹارگٹ کر کے بے گناہ شہریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے عوام نے بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جس قوم میں شہادت پانے کا جذبہ موجود ہو اس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، انڈیا کو بلا جواز مسلط کی گئی جنگ میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ ایل او سی زیرو پوائنٹ بگنہ پہنچ گئے، لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت سے شہید ہونے والے علی احمد بٹ کے ورثاء سے اظہار تعزیت، فاتحہ خوانی کی اور شہید کے والد کو فیڈرل گورنمنٹ کی طرف سے ایک کروڑ کا امدادی چیک دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ انڈیا نے دوبارہ غلطی کی تو اس سے بڑھ کر جواب ملے گا، ہمیں اپنی مسلح افواج اور حکومت پر پورا اعتماد ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان نے موثر سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے، بھارت نے بلا جواز سویلین آبادی کو ٹارگٹ کر کے بے گناہ شہریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے عوام نے بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آپ کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں حکومت پاکستان، افواج پاکستان آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، دشمن کو دندان شکن جواب دینے پر افواج پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے متاثرین کی بحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر رانا ثناء رانا ثناء اللہ لائن آف کنٹرول اللہ نے کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔