استنبول میں جاری روس یوکرین مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ پیر کو روس اور یوکرین کے صدور سے بات کریں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق استنبول مذاکرات کے پس منظر میں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہا کہ وہ پیر کو صبح 10 بجے مشرقی (1400 GMT) پر جنگ روکنے پر بات کرنے کے لیے پیوٹن سے بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین امن کوشش: ٹرمپ روسی صدر پیوٹن سے جلد ملنے کے خواہاں

امریکی صدر نے لکھا کہ خونی ہولی روکنا ہوگی، جو اوسطاً ایک ہفتے میں 5000 سے زیادہ روسی اور یوکرینہ فوجیوں کو نگل رہی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ صدر پیوٹن سے بات چیت کے بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور نیٹو کے مختلف ارکان سے بات کریں گے۔

امید ہے کہ یہ ایک نتیجہ خیز دن ہوگا، جنگ بندی ہوگی، اور ایک ایسی جنگ جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی، ختم ہو جائے گی۔

روس امریکی صدور کی ملاقات کے حوالے سے ماسکو میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان بات چیت کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:روس اور یوکرین بڑے پیمانے پر جنگی قیدیوں کے تبادلے پر متفق

دوسری جانب روس یوکرین کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شامل یوکرین کے ایک اہلکار کے مطابق ماسکو کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی پر اتفاق ہونے سے پہلے نئے مطالبات پیش کر دیے ہیں۔

روس کی ڈیمانڈ

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق استنبول مذاکرات سے واقف ایک سینیئر یوکرینی اہلکار نے بتایا کہ روسی مذاکرات کاروں نے یوکرین سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی پر رضامند ہونے سے قبل یوکرین کے ان تمام علاقوں سے اپنی فوجیں نکال لیں جن کا ماسکو نے دعویٰ کیا ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کو ترکی میں ہونے والی بات چیت میں مارچ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد فریقین نے پہلی بار براہ راست بات چیت کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استنبول مذاکرات امریکا پوٹن ڈونلڈ ٹرمپ روس کریملن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استنبول مذاکرات امریکا پوٹن ڈونلڈ ٹرمپ روس یوکرین یوکرین کے پیوٹن سے بات چیت سے بات کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال