ظہور احمد: خفیہ معلومات فروخت کرنے کا الزام، پولیس اہلکار عدالت سے بری
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
ظہور احمد: خفیہ معلومات فروخت کرنے کا الزام، پولیس اہلکار عدالت سے بری WhatsAppFacebookTwitter 0 19 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی پولیس کے اے ایس آئی ظہور کو روسی سفارتکار کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اے ایس آئی ظہور کی سزا کے خلاف دائر اپیل منظور کرتے ہوئے زبانی فیصلہ سنایا، جب کہ تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیکٹا اور وزارت داخلہ کی تھریٹ الرٹ رپورٹس کو خفیہ معلومات یا خفیہ دستاویزات نہیں کہا جا سکتا۔
درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ عمران فیروز ملک اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپیل کو منظور کر لیا۔
اے ایس آئی ظہور کے خلاف 13 دسمبر 2021 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے 18 مئی 2024 کو انہیں تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی معطل کر چکی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بھارت کشیدگی: بی سی سی آئی کا ایشیا کپ سے دستبرداری کا فیصلہ پاک بھارت کشیدگی: بی سی سی آئی کا ایشیا کپ سے دستبرداری کا فیصلہ پاکستان اور چین کا دفاعی تعاون جنگی برتری میں تبدیل، عالمی میڈیا کا بھی اعتراف قوم اپنے ہیرو کو سلام پیش کرتی ہے: سربراہ پاک فضائیہ کا اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے گھر جا کر فاتحہ، سی ایم... چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر بارش کے دوران تمام فائر اینڈ ریسکیو یونٹس فعال اسلام آباد، راولپنڈی میں ژالہ باری، طوفانی ہواوں اور بارش کا امکان، الرٹ جاری تربیت مسلسل سیکھنے اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا ذریعہ بنتی ہے،چیئرمین سی ڈی اے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خفیہ معلومات
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔