نئی دہلی:بھارتی  سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تنازع ہمیشہ سے روایتی ہتھیاروں تک محدود ہے اور کبھی دونوں پڑوسی ملکوں نے ’ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی اشارہ‘ نہیں دیا۔
بھارتی سیکرٹری خارجہ نے پارلیمنٹ کی کمیٹی کو ’آپریشن سندور‘ پر بریفنگ میں کہا کہ دونوں ملکوں دوطرفہ طور پر سیزفائر کے سمجھوتے تک پہنچے۔
بھارتی سیکرٹری خارجہ سے پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے متعدد بار پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں امریکہ کے کردار پر سوالات کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 مئی کو دونوں ملکوں کے ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنز تمام فوجی اقدامات کو روکنے پر متفق ہوئے۔
بھارتی پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس کی صدارت اپوزیشن جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن ششی تھرور نے کی۔
اجلاس میں دیگر ارکان کے علاوہ آل انڈیا ترانمل کانگریس کے ابھیشک بینرجی، کانگریس کے راجیو شکلا اور دیپندر ہودا، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسدالدین اویسی، بی جے پی کے اپاراجیتا سارنگی اور ارن گوویل نے شرکت کی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ سے دس مئی تک سرحدی کشیدگی اور میزائل حملوں کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے دونوں ملکوں میں جنگ بندی کا معاہدہ کرایا۔
اس جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے چھ لڑاکا طیارے گرانے اور متعدد فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیکرٹری خارجہ

پڑھیں:

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔

اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔

پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویز

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گی

مجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم