ڈائریکٹر آئی ایم ایف مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا پاکستان کا دورہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور اس ہفتے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، اس دورے کے دوران ازعور وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، IMF نے پاکستان پر شرط عائد کی ہے کہ بجٹ کی پارلیمانی منظوری IMF کے عملے کے معاہدے کے مطابق حاصل کی جائے تاکہ پروگرام کے اہداف پورے کیے جا سکیں۔
اس سے حکومت کے لیے اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے، حالانکہ وزیر اعظم شریف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت نے یو اے ای کے تین بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض مانگ لیا
ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس ہدف، دفاعی اخراجات اور کچھ گرانٹس سے متعلق مسائل پر بات چیت ہو رہی ہے۔
وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات کے لیے تقریباً 2.
وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پیر کو وزیر اعظم شہباز شریف کو اگلے مالی سال کے لیے ٹیکسیشن کی تجاویز پیش کیں۔
وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ FBR کا ٹیکس ہدف تقریباً 14.07 ٹریلین روپے ہو سکتا ہے، جو کہ IMF اور حکومت کے درمیان مالی سال 2025-26 کیلیے پہلے سے متفقہ ہدف سے تقریباً 240 ارب روپے کم ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا ٹیکس چوری میں ملوث افراد اور شعبوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم
تاہم امکان ہے کہ حکومت فنانس بل 2025 کے ذریعے قانون میں پٹرولیم لیوی کی شرحوں میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں مجوزہ ریلیف اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں کمی کو ناکافی قرار دیا۔
انھوں نے ٹیکس حکام کو ہدایت دی کہ وہ IMF کے ساتھ مشاورت سے تنخواہ دار افراد کو نمایاں ریلیف فراہم کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔