اسلام آباد:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور اس ہفتے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، اس دورے کے دوران ازعور وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کریں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق،  IMF نے پاکستان پر شرط عائد کی ہے کہ بجٹ کی پارلیمانی منظوری IMF کے عملے کے معاہدے کے مطابق حاصل کی جائے تاکہ پروگرام کے اہداف پورے کیے جا سکیں۔

اس سے حکومت کے لیے اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے، حالانکہ وزیر اعظم شریف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت نے یو اے ای کے تین بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض مانگ لیا

ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس ہدف، دفاعی اخراجات اور کچھ گرانٹس سے متعلق مسائل پر بات چیت ہو رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات کے لیے تقریباً 2.

504 ٹریلین روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اس سال کی مختص رقم سے 18% زیادہ ہے۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پیر کو وزیر اعظم شہباز شریف کو اگلے مالی سال کے لیے ٹیکسیشن کی تجاویز پیش کیں۔

وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ FBR کا ٹیکس ہدف تقریباً 14.07 ٹریلین روپے ہو سکتا ہے، جو کہ IMF اور حکومت کے درمیان مالی سال 2025-26 کیلیے پہلے سے متفقہ ہدف سے تقریباً 240 ارب روپے کم ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا ٹیکس چوری میں ملوث افراد اور شعبوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

تاہم امکان ہے کہ حکومت فنانس بل 2025 کے ذریعے قانون میں پٹرولیم لیوی کی شرحوں میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں مجوزہ ریلیف اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں کمی کو ناکافی قرار دیا۔

انھوں نے ٹیکس حکام کو ہدایت دی کہ وہ IMF کے ساتھ مشاورت سے تنخواہ دار افراد کو نمایاں ریلیف فراہم کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار