سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 9دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور خیبرمیں کارروائیاں کیں، آئی ایس پی آر
مختلف مقامات پر دہشت گردوں سے جھڑپیں، دہشت گردوں سے گولہ بارود برآمد، سرچ آپریشن جاری
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں فعال 9دہشت گرد وں کو ہلاک کردیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ24اور 25مئی کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 9بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج ہلاک ہو گئے ۔بیان میں کہا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیاجہاں بھارتی سرپرستی میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع تھی، سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 4خوارج کو جہنم واصل کیا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دوسری کارروائی ٹانک میں خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس میں مزید دو بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج مارے گئے ۔اسی طرح تیسری جھڑپ ضلع خیبر کے علاقے باغ میں ہوئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے 3 مزید خوارج کو ہلاک کردیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، ہلاک خوارج علاقے میں متعدد دہشت گردی کارروائیوں میں ملوث تھے ۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں خوارج کے مکمل خاتمے کے لیے سرچ آپریشنز جاری ہیں اور سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا مکمل صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی سرپرستی آئی ایس پی آر خفیہ اطلاع
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔