کیرالہ(اوصاف نیوز) پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارت کا جنگی جنون میں‌اضافہ دیکھنے میں‌آیا. بھارت نے فرانس کیساتھ دفاعی ڈیل کے بعد دیگر ممالک سے جوہری مواد اکھٹا کرنے لگا.

ایسی صورتحال میں بھارتی ریاست کیرالا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والے لائبیریا کے کارگو جہاز سے وابستہ خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ جہاز کے کنٹینرز اب ساحل پر بہہ کر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ریاستی حکومت نے ممکنہ تیل کے اخراج اور خطرناک کیمیکل کے رساؤ کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ”MSC ELSA 3“ نامی کارگو جہاز میں شدید جھکاؤ (26 ڈگری اسٹار بورڈ لسٹ) پیدا ہوا، جس کے بعد ہفتے کے روز جہاز کے تمام 24 عملے کے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ان میں ایک روسی، 20 فلپائنی، دو یوکرینی اور ایک جارجیائی شامل تھا۔

کیرالا حکومت نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے کیونکہ جہاز میں خطرناک مواد، 84 میٹرک ٹن ڈیزل اور 367 میٹرک ٹن فرنس آئل موجود تھا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر کیلشیم کاربائیڈ بھی لدا ہوا تھا، جو سمندری پانی سے ردعمل دے کر ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

انڈین کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ان کے جدید آئل اسپل ڈیٹیکشن سسٹم سے لیس ہوائی جہاز مسلسل فضائی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ”آئی سی جی ساکشَم“ نامی بحری جہاز ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے سازوسامان کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق، کولم ضلع کے جنوبی ساحل پر جہاز کے کنٹینرز آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر کم از کم چار کنٹینرز کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔ حکام نے عوام کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی انجان چیز کو ہاتھ نہ لگائیں اور ساحلی علاقے سے دور رہیں۔

یہ واقعہ بھارت کے ساحلی علاقوں کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی خطرہ بن چکا ہے، جس پر کوسٹ گارڈ، نیوی اور ریاستی ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تیل یا کیمیکل کا اخراج ہوا تو یہ ماحولیاتی نظام، سمندری حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔
پاکستانی خواتین بیوٹیشنز کیلئے سعودی عرب میں ملازمت اور کاروبار کا زبردست موقع

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی