ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خواتین کی صحت کے کئی پہلو، خصوصاً دل سے متعلق مسائل یا تو مکمل طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں یا پھر انہیں معمولی سمجھ کر وقتی علاج پر ٹال دیا جاتا ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ خواتین خود بھی اپنی علامات کو اکثر ذہنی دباؤ، کام کی زیادتی یا ہارمونی تبدیلیوں سے جوڑ کر سنجیدگی سے نہیں لیتیں لیکن یہی لاپروائی اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ دل کے امراض صرف مردوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر خواتین میں بھی دل کی بیماریاں سب سے زیادہ اموات کی وجہ بن رہی ہیں۔Journal of the American College of Cardiology کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور دنیا بھر میں دل کی بیماریاں خواتین کے سب سے بڑے قاتلوں میں شامل ہیں۔

دل کی صحت کو خواتین کے جسمانی ڈھانچے، ہارمونل سسٹم اور مخصوص طرز زندگی کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ وقت پر تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ ڈاکٹر جین مک سوئینی، جو یونیورسٹی آف آرکنساس (امریکا) میں نرسنگ ریسرچ کی پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ تولیدی نظام کے بعد دل کا نظام وہ دوسرا جسمانی نظام ہے جس میں مرد و عورت میں سب سے زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ یہ فرق نہ صرف جسمانی ساخت میں ہوتا ہے بلکہ اس سے علامات، تشخیص اور علاج کے طریقہ کار پر بھی اثر پڑتا ہے۔

خواتین کے دل کی شریانیں نسبتاً چھوٹی ہوتی ہیں اور خون کی گردش کا نظام بھی مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔ دوسری طرف امریکی ڈاکٹر جین مورگن، جو ایک معروف کارڈیالوجسٹ اور پیڈمنٹ ہسپتال اٹلانٹا کی کووڈ ٹاسک فورس کی کلینیکل ڈائریکٹر ہیں، اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دل کی بیماریوں کی تشخیص میں صنفی تعصب بدستور موجود ہے، جس کا نقصان خواتین کو اٹھانا پڑتا ہے۔

زیادہ تر لوگ ہارٹ اٹیک کو صرف سینے میں شدید درد، بائیں بازو میں جھٹکا اور غیرمعمولی پسینے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہ علامات زیادہ تر مردوں میں پائی جاتی ہیں مگر خواتین میں علامات اکثر مختلف، مبہم اور کم شدت کی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کے دل کے دورے اکثر تاخیر سے پہچانے جاتے ہیں، جس کے باعث موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا یہاں ہم بالخصوص خواتین کے لئے ایک معلوماتی اور تحقیقی تحریر پیش کرنے جا رہے ہیں، جو آپ کو ایسی 9 اہم علامات کے بارے میں بتاتی ہے، جن کا تعلق خواتین میں دل کے دورے یعنی ہارٹ اٹیک سے ہے۔ یہ تحقیق رواں برس حال ہی یعنی گزشتہ سے پیوستہ ماہ شائع کی گئی ہے، جس میں نہ صرف علامات کا ذکر کیا گیا بلکہ ان علامات کی وجہ سے دل کی بیماری کا شکار ہونے والے افراد کے تجربات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ تو چلیے اب ان کے بارے میں جانتے ہیں۔

1۔ بازو میں غیر معمولی کیفیت یا سن ہونا

کئی خواتین دل کے دورے سے پہلے بازو میں جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا احساس بیان کرتی ہیں۔ 40 سالہ امریکن اسکول کاؤنسلر ٹارا رابنسن، جنہیں ایک ہی ہفتے میں تین بار ہارٹ اٹیک ہوا، بتاتی ہیں کہ مجھے لگا جیسے میرا بازو سو گیا ہو، شروع میں یہ کیفیت چند منٹ رہتی، پھر غائب ہو جاتی۔ ایک اور خاتون للی روچا نے اپنے بائیں بازو، جبڑے اور سینے میں عمومی تکلیف محسوس کی، جسے وہ سفر کی تھکن سمجھتی رہیں۔ ان کا دل کا دورہ بھی اسی خاموش انداز میں ہوا۔

لہذا بازو کی غیرمعمولی کیفیت یا سن ہونے کے احساس کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگرچہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کی تھکا دینی گھریلو خدمات کے باعث انہیں جسم میں مختلف دردوں کا سامنا رہتا ہے لیکن بازو کی مذکورہ کیفیت کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

2۔ جبڑے میں شدید درد

جبڑے میں درد اکثر دانتوں کا مسئلہ یا ٹی ایم جے (ٹمپورومینڈیبولر جوائنٹ) کی خرابی سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ دراصل دل کی طرف سے ریفرڈ پین یعنی منتقل ہونے والی درد ہو سکتی ہے۔

نیویارک کے ایک مشہور ادارے میں بحیثیت کارڈیالوجست فرائض سرانجام دینے والی ڈاکٹر سوزین اسٹینبام بتاتی ہیں کہ یہ درد دراصل دل سے پیدا ہوتا ہے، مگر جبڑے میں محسوس ہوتا ہے۔ ایک مریضہ نے پہلے دانتوں کے ڈاکٹر سے علاج کروایا، پھر دانت نکلوایا، لیکن جب مسئلہ ختم نہ ہوا، تب ہارٹ اٹیک کے بعد اصل تشخیص ہوئی۔

3۔ متلی یا قے کی کیفیت

ایک تحقیق کے مطابق، 55 سال سے کم عمر میں ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والی دو تہائی خواتین نے معدے میں درد، متلی یا اپھارہ محسوس کیا۔ ایک امریکی خاتون ٹارا رابنسن کہتی ہیں دل کا دورہ پڑنے کے دن مجھے قے کی شدید خواہش ہو رہی تھی۔ ایسی علامات اکثر ہاضمے کے مسئلے یا خوراک کی خرابی سے جوڑ دی جاتی ہیں، جو خطرناک ہو سکتا ہے۔ لہذا یہ ضرورری نہیں قے آنے کی وجہ صرف معدے کی تکلیف ہو بلکہ یہ ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

4۔ سانس لینے میں دشواری یا گھٹن کا احساس

دل کے کمزور ہونے کی وجہ سے جسم کو آکسیجن کی مناسب مقدار نہیں ملتی، جس کے باعث سانس پھولنے لگتی ہے۔ لیٹنے یا سیڑھیاں چڑھنے پر اگر سانس پھولنے لگے، تو یہ دل کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر سوزین کہتی ہیں جب دل خون کو صحیح طور پر پمپ نہیں کر پاتا تو پھیپھڑوں میں پانی بھرنا شروع ہو جاتا ہے، جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ یہ پھیپھڑوں کے دیگر امراض کے جنم کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

5۔ غیر معمولی تھکن کا احساس

ڈاکٹر سوزین اسٹینبام بتاتی ہیں کہ خواتین عموماً دل کے دورے کی علامات کو اس لیے نظرانداز کر دیتی ہیں کیونکہ ہم ماہواری کے دوران باقاعدگی سے جسمانی تکلیف محسوس کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اصل نکتہ یہ ہے کہ ہم روزمرہ کے کام جو معمول کے مطابق آسان ہوتے ہیں، اگر وہ اچانک مشکل ہو جائیں یا ان کے دوران جسمانی علامات ظاہر ہوں، تو یہ چیک کروانے کا وقت ہے۔

روبسن کو یاد ہے کہ جب وہ شاور کی صفائی کے بعد اپنے کمرے تک رینگ کر واپس گئیں کیونکہ وہ خود کو بے حد کمزور محسوس کر رہی تھیں اور صرف سونا چاہتی تھیں۔ ڈاکٹر میک سوینی ایک مریضہ کی مثال دیتی ہیں جو اتنی تھکی ہوئی تھیں کہ وہ اپنا بستر بھی مکمل طور پر لگا نہ سکیں۔ ڈاکٹر میک سوینی، جو امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ’’خواتین اور امراضِ قلب‘‘ کے شعبہ سے منسلک ہیں، کہتی ہیں کہ ایسا ہر خاتون کے ساتھ شدت سے نہیں ہوتا، لیکن اگر تھکن وقت کے ساتھ بڑھتی جائے، یا نیند کے باوجود آپ خود کو بہتر محسوس نہ کریں، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

6۔ کمر کے اوپری حصے میں درد

یہ درد کندھوں کے درمیان محسوس ہوتا ہے اور بعض اوقات تیز چھبنے جیسا ہوتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کا نشانہ بننے والی مریضہ ٹارا رابنسن کہتی ہیں کہ مجھے ایسا لگا جیسے دل کے پیچھے کوئی چیز چبھ رہی ہو۔

7۔ سینے میں دباؤ، جکڑن یا عجیب سا احساس

بعض خواتین اسے بوجھ یا جھرجھری کی کیفیت کے طور پر بیان کرتی ہیں۔ للی روچا نے اسے برقی رو جیسا احساس قرار دیا، جو چند منٹ آ کر غائب ہو جاتا تھا اور بعدازاں پھر یہی احساس ان کے لئے ہارٹ اٹیک کا باعث بن گیا۔

8۔ فلو جیسی علامات

اکثر خواتین تھکن، بخار یا جسم درد کو وائرل انفیکشن سمجھ کر خود ہی دوا لے لیتی ہیں۔ یہ علامات اگر معمول سے مختلف ہوں یا چند دنوں میں نہ جائیں، تو یہ دل کی بیماری کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔

9۔ بلند فشار خون اور حمل کی پیچیدگیاں

اگر حمل کے دوران پری ایکلیمپسیا یعنی ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس ہو، تو ماہرین کے مطابق دل کی بیماری کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے زیادہ تر خواتین بچے کی پیدائش کے بعد کارڈیالوجسٹ سے رابطہ نہیں کرتیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر مونٹانا کہتی ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر خواتین میں دل کی ناکامی کا خطرہ تین گنا بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ ہارمونی تبدیلیاں یا قبل از وقت بچے کی پیدائش ہو۔

دنیا کے معروف طبی ماہرین کی رائے کے مطابق خواتین کو خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جین مورگن بتاتی ہیں کہ خواتین کی بہتر تشخیص اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ کسی خاتون کارڈیالوجسٹ کے پاس جائیں۔ بدقسمتی سے، 2019 کی ایک تحقیق کے مطابق صرف 22 فیصد جنرل فزیشن اور 42 فیصد کارڈیالوجسٹ خواتین میں دل کے مرض کا صحیح اندازہ لگا پاتے ہیں۔ اگرچہ دل کی بیماری ایک خاموش قاتل ہے، لیکن آگاہی اور بروقت تشخیص کے ذریعے اس کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی جسمانی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لیں، ہر غیر معمولی علامت کو ذہنی دباؤ نہ سمجھیں اور اگر کوئی بھی ایسی علامت مسلسل رہے تو فوراً طبی مشورہ لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دل کی بیماری خواتین میں دل کے دورے خواتین کے کہ خواتین کے مطابق سکتا ہے ہوتا ہے ہو جاتا کے ساتھ جاتا ہے کا خطرہ کے بعد کی وجہ

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ