کے الیکٹرک ٹیرف کیخلاف حکومت کا نیپرا میں نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
کے الیکٹرک کے ٹیرف کے خلاف حکومت نے نیپرا میں نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے وفاقی دارالحکومت میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کے الیکٹرک کے ٹیرف پر وفاقی حکومت نظر ثانی درخواست نیپرا میں دائر کرنے جا رہی ہے ، اس پر ہم تیاری کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور بجلی صارفین پر دباؤ نہ آئے، اس سلسلے میں ہم کام کر رہے ہیں۔ ہم نجکاری کی طرف جا رہے ہیں۔ کے الیکٹرک اور دیگر انویسٹرز اپنی کارکردگی کے اوپر منافع کمائیں ۔
اویس لغاری نے کہا کہ خیرات کے بجائے ایفیشنسی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ہماری ڈسکوز میں ریگولیٹری قوانین نافذ کروانے چاہییں۔ ہم نیپرا میں جائیں گے تاکہ صارف کے لیے مناسب قیمت لے سکیں ۔ کے الیکٹرک کے ٹیرف کا بوجھ دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین ٹیکسز کی مد میں برداشت کرتے ہیں ۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ نیپرا سے امید ہے کہ ایسے فیصلے دیں جس سے ملک اور صارفین کا فائدہ ہو ۔ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی پر دوبارہ نظر ثانی کی گئی ہے۔ نیٹ میٹرنگ پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے ۔ نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کی منظوری دی جاتی ہے تو ایک ماہ میں عملدرآمد ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 31 فیصد انڈسٹری کے لیے بجلی سستی ہوئی ہے ۔ ایک کروڑ 80 لاکھ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 50 فیصد کم ہوئی ہے۔
وزیر توانائی کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہماری پن بجلی کی پیداوار کم ہوئی ہے ۔ پن بجلی کی کمی کے باعث ہمیں دیگر مہنگے ذرائع سے بجلی کی پیداوار کرنی پڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی اے ہر ماہ کبھی اوپر ہوتا یے کبھی نیچے جاتا ہے۔ پاکستان میں مجموعی طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔ گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے بینکوں سے پیسے لینے کا منصوبہ جلد ہونے جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک نیپرا میں ہوئی ہے بجلی کی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔