Daily Ausaf:
2026-07-24@04:12:30 GMT

یومِ تکبیر سے فتح مبین تک

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

28 مئی 1998ء وہ تاریخی دن تھا جب چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں نے پاکستان کی عظمت کی گواہی دی۔ یہ محض ایک سائنسی فتح نہیں تھی بلکہ ایک قوم کے عزم، اس کی غیرت اور اس کی خودمختاری کا آہنی اعلان تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ ایک ناقابلِ تسخیر، ذمہ دار اور باوقار قوم ہے۔ یومِ تکبیر ایک دن نہیںبلکہ ایک جذبہ ہے، ایک ایسی داستان جو ہر پاکستانی کے دل میں فخر کی لہر جگاتی ہے۔ آج اگر ہم بھارت کے مقابلے میں سرخرو ہیں تو یہ اسی دن کی بدولت ہے، جب ہم نے اپنی سائنسی مہارت، سفارتی جرأت، اور قیادت کی دوراندیشی سے عالمی منظرنامے پر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ دوسری طرف بھارت، جو اپنے جوہری پروگرام کی بدانتظامی، چوریوں، اور شرمناک ناکامیوں سے عالمی سطح پر رسوا ہو رہا ہے، اس کی ذلت ہمارے فخر کا آئینہ ہے۔
یہ دن ہمارے قومی ہیروز کی لازوال قربانیوں کی داستان ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، وہ عظیم سائنسدان جن کا نام پاکستان کی عزت کا استعارہ ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات ایک کر کے، عالمی پابندیوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنایا۔ وہ ہمارے سچے محسن ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی اس قوم کے دفاع کے لیے وقف کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا وہ خواب کہ ’’ہم گھاس کھائیں گے، لیکن ایٹم بم بنائیں گے‘‘ آج بھی ہر پاکستانی کے خون میں جوش بھردیتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق ، مرد مجاہد جس نے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس پروگرام کو منزل تک پہنچایا۔ بے نظیر بھٹو جس نے میزائل پروگرام کی مضبوط بنیاد رکھ کر ہمارے دفاع کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور پھر نواز شریف، تمام تر اختلافات کے باوجود اعتراف لازم ہے کہ نواز شریف نے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکوں کا تاریخی فیصلہ کیا، وہ فیصلہ جو پاکستان کو عالمی نقشے پر ناقابلِ شکست طاقت بنا گیا۔ یہ ہمارے ہیروز ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں اس قوم کی عزت اور سربلندی کے لیے نچھاور کیں، ایک اور نام بھی ہےجس کا احسان یہ قوم کبھی نہیں چکا سکتی ، غلام اسحاق خان ، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا وہ امین جس نے سیکریٹری خزانہ سے لے کر صدر مملکت کے عہدہ جلیلہ تک اس پروگرام کی مالی ضروریات کو ایسے پورا کیا کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوسکی اور ایک لمحے کو بھی ایٹمی منصوبوں کو مالی تنگدستی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، سینکڑوں داستانیں ہیں جو اس مرد قلندر کی عظمت کردار کی گواہی دیتی ہیں ، فرض شناس اتنا کہ جب سیاسی کشمکش کے نتیجہ میں اسے منصب سے الگ ہونا پڑا تو بزعم خود ایک ’’بڑے ‘‘ صحافی نے ایٹمی پروگرام کے حوالہ سے سوال کیا تو ،کہا ’’ہاں، کبھی ہم اس کے نگہبان تھے، اب کچھ اور لوگ اس کے امین ہیں۔‘‘
وقت کا گزرتا ہوا ہرلمحہ ثابت کررہا ہےکہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جس نے اپنے جوہری پروگرام کو نہ صرف مضبوط بلکہ عالمی معیار کے مطابق محفوظ بنایا۔ ہمارے حفاظتی پروٹوکولز دنیا بھر میں تسلیم کیے جاتے ہیں اور ہماری قوم اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہرقربانی دینےکو تیار ہے،لیکن بھارت کا کیا حال ہے؟ وہ بھارت، جو اپنے جوہری پروگرام کی بدانتظامی، چوریوں اورشرمناک ناکامیوں سے عالمی برادری کی نظروں میں ذلیل ہو رہا ہے۔ بھارت میں یورینیم کی چوریوں نے جوہری تحفظ کے پروٹوکولز پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ بھارت میں جوہری مواد کی چوری، اسمگلنگ اور تابکار حادثات کا تسلسل عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اس کی جوہری تنصیبات اور مواد کی تیاری سے متعلق حفاظتی اقدامات میں مسلسل کوتاہیاں سامنے آ رہی ہیں، جو نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
ساؤتھ ایشیا اسٹریٹجک اسٹیبیلٹی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق، 1994 سے 2021 تک بھارت میں جوہری مواد کی چوری کے 18 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں چوری ہونے والے مواد کی مقدار 200 کلوگرام سے متجاوز ہے۔ ان واقعات میں متعدد کیسز میں ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے یورینیم یا کیلیفورنیم جیسے خطرناک تابکار مادے برآمد ہوئے۔ نیوکلئیر تھریٹ انیشی ایٹو (NTI) کی 2024 کی رپورٹ بھی بھارت کے جوہری تحفظ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ اس رپورٹ میں بھارت کو 22 ممالک کی فہرست میں 20ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جبکہ ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کے عالمی انڈیکس میں بھارت 47 ممالک میں سے 40ویں نمبر پر ہے۔ NTI نے کئی بار بھارت میں ممکنہ جوہری حادثات سے قبل خبردار کیا لیکن بھارتی حکومت کی عدم توجہی نے ان خطرات کو حقیقت بنادیا۔
واقعات کی تفصیلات بھارت کی شرمناک بدانتظامی کو عیاں کرتی ہیں۔ نومبر 1994 میں دومقامات سے 2.

5 کلوگرام یورینیم اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ 1998 میں 100 کلوگرام سے زائد یورینیم کی اسمگلنگ کی کوشش ریکارڈ پر ہے۔ اسی سال جولائی میں تامل ناڈو سے 8 کلوگرام، مئی 2000 میں ممبئی سے 8.3 کلوگرام، اور اگست 2001 میں مغربی بنگال سے 200 گرام نیم تیار شدہ یورینیم برآمد ہوا۔ حالیہ برسوں میں بھی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ 2018 میں کولکتہ میں پانچ افراد کے قبضے سے 1 کلوگرام یورینیم برآمد ہوا۔ مئی 2021 میں مہاراشٹرا سے 7 کلوگرام یورینیم اور جون 2021 میں جھارکھنڈ سے 6.4 کلوگرام یورینیم قبضے میں لیا گیا۔ اسی سال کولکتہ ایئرپورٹ پر 250 گرام کیلیفورنیم برآمد کیا گیا، جو شدید تابکار اور انتہائی مہنگا مواد ہے۔ جولائی 2024 میں بھارت کے حساس ترین ادارے، بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز سے تابکار آلے کی چوری بھارتی جوہری تحفظ کے لیے کھلا طمانچہ تھی۔ اگست 2024 میں ایک اورتابکار مادہ، جو کیلیفورنیم سے مشابہت رکھتا تھا، قبضےمیں لیا گیا۔ ان تمام واقعات نے عالمی اداروں اور ماہرین کو مجبور کر دیا کہ وہ بھارت کی جوہری سلامتی پر نظر ثانی کریں۔
بھارتی پارلیمانی رپورٹس بھی اس غفلت کی تصدیق کرتی ہیں۔ 1995 سے 1998 کے درمیان 147 حفاظتی حادثات رپورٹ کیے گئے جو حکومتی اور انتظامی سطح پر بدترین لاپروائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ کمزوریاں نہ صرف خود اس کے لیے خطرناک ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں جوہری تحفظ کے عالمی پروٹوکولز کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ تابکار مواد کی بار بار چوری اور اس کی اسمگلنگ کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت جوہری ہتھیار رکھنے کے باوجود بین الاقوامی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہا ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا بھارت جیسے ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کی ملکیت برقرار رکھنے دی جائے، جبکہ اس کے اندرونی حفاظتی نظام اتنے غیر محفوظ اور ناقابلِ اعتماد ثابت ہو چکے ہیں؟
یہ شرمناک سلسلہ بھارت کی بدانتظامی اور غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کو ہمیشہ ذمہ داری اور عزت کے ساتھ سنبھالا۔ ہمارے حفاظتی نظام عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں، اور ہماری قوم اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیےہرقربانی دینے کو تیار ہے۔ بھارت کی یہ ناکامی ہمارے فخر کو اور بلند کرتی ہے، ہم اپنے ماہرین اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو سلام پیش کرتے ہیں کہ جب بھارت دنیا بھر میں رسوا ہو رہا ہے تو وہی پاکستان کا نام ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر لیتی ہے ۔ یہ وہی فخر ہے ، یہی وہ اعتماد ہےجو پاکستانی نوجوان کو یہ بےفکری عطا کرتا ہے کہ وہ جنگ کے ایام میں بھی دشمن کا تمسخر اڑاتا ہےاور چیلنج کرتا ہے کہ’’ خبردار، ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو آنکھیں نوچ لیں گے ۔‘‘ اور اسی قوم کے شہبازوں نے دشمن کی آنکھیں نوچ کر دکھا دیں ، دنیا کو بتادیا کہ 28مئی ہمارے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان تھا تو 10مئی ہمارے نوجوانوں کی جدید حربی ٹیکنالوجی میں مہارتوں کا عملی اعلان ، یومِ تکبیر ایک دن نہیں ، استعارہ ہے ، ایک جذبہ، ترقی، خودمختاری، اور عزت کے سفر کا آغاز ۔ دشمن جان لیں کہ پاکستان وہ سرزمین ہے جو اپنی غیرت اور دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ 10 مئی کا دن اسی عزم کا اعلان تھا کہ ہماری سرحدیں ناقابلِ عبور ہیں۔ یہ سفر، جو 28 مئی 1998ء کو شروع ہوا، انشاء اللہ کبھی نہیں رکے گا۔ ہم اپنے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ بھارت کی ذلت ہمارے فخر کی گواہی ہے، اور پاکستان ہمیشہ سربلند رہے گا۔انشاءاللہ

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اپنے جوہری پروگرام جوہری تحفظ کے پروگرام کی بھارت میں بھارت کی کرتے ہیں کی چوری نے اپنی مواد کی رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا