محکمہ موسمیات کی عید کے دوران ہیٹ ویو کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
کراچی:
محکمہ موسمیات نے عید کی تعطیلات کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں ہیٹ ویو کی پیش گوئی کر دی ہے تاہم کراچی میں ہیٹ ویوکا امکان نہیں ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہائی پریشر پیداہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں عید کی تعطیلات اور بعد میں آنے والے دنوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گرمی کی غیرمعمولی لہرکے سبب بالائی، وسطی سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے چند علاقے، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان 7 سے 12جون کے درمیان ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہیں گے۔
اس دوران درجہ حرارت معمول سے7 ڈگری اضافی ریکارڈ ہوسکتا ہے، حد سے زیادہ گرمی کی وجہ سے ملک کے میدانی علاقوں میں گردو غبار اور تیز ہوائیں چلنےکی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ شدید ہیٹ ویو کی وجہ سے بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہےکہ دن کے وقت سورج کی براہ راست روشنی سے بچیں اور پانی کا استعمال زیادہ رکھیں۔
مزید بتایا گیا کہ شمالی علاقوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت پیش گوئی کی مدت کے دوران برف پگھلنےکی شرح کو بڑھانے کاسبب بن سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ موجودہ گرمی کی لہرکے دوران کراچی میں ہیٹ ویو کا کوئی امکان نہیں ہے، البتہ عید کے تینوں روز کراچی میں موسم گرم ومرطوب رہنے کی توقع ہے اور اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری تک تجاوز کرسکتا ہے۔
کراچی کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ عید کی چھٹیوں کے دوران صبح کے وقت نمی کاتناسب 70جبکہ شام کو 60 فیصد تک بڑھنے کے نتیجے میں درجہ حرارت اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس کیاجاسکتا ہے۔
شہر میں جمعرات کو زیادہ سے زیادہ پارہ 36ڈگری اور ہوامیں نمی کاتناسب 56فیصد ریکارڈ ہوا، معمول سے تیز ہوائیں چلیں جس کی رفتار33کلومیٹرفی گھنٹہ ریکارڈ ہوئیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو کی کے دوران سے زیادہ گرمی کی
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔