آن لائن کاروبار کرنے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
وہ افراد یا کمپنیاں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اشیا ء خدمات فروخت کرتے ہیں، ان پر ٹیکس لاگو ہوگا
حکومت نے زیادہ پنشن لینے والے افراد کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کا فیصلہ،5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا
مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ میں ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ افراد یا کمپنیاں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اشیا یا خدمات فروخت کرتے ہیں، ان پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ آن لائن آرڈر کی گئی اشیا اور خدمات پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ای کامرس کاروباری افراد کو اپنی ماہانہ ٹرانزیکشنز کا مکمل ڈیٹا اور ٹیکس رپورٹ متعلقہ اداروں کو جمع کروانی ہوگی۔بجٹ میں قرض کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی آمدنی پر بھی 25 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب شیٔرز پر حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور موجودہ نظام برقرار رکھا گیا ہے۔ حکومت نے زیادہ پنشن لینے والے افراد کو بھی ٹیکس کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے افراد جن کی عمر ستر سال سے کم ہے اور جو سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن حاصل کرتے ہیں ان پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ مگر کم اور درمیانی پنشن لینے والوں کو اس ٹیکس سے مستثنی قرار دیا گیا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ٹیکس عائد کا فیصلہ ا ن لائن پر ٹیکس
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔