نائب وزیراعظم اسحاق ڈار رواں ماہ امریکا کا دورہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار رواں ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ 17 سے 19 جون تک منعقد ہونے والی ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق یہ کانفرنس مشرقِ وسطیٰ کے اہم ترین مسئلے، فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تناظر میں منعقد ہو رہی ہے، جس کا محور دو ریاستی حل کے نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔
اسحاق ڈار کی شرکت پاکستان کے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے عالمی سطح پر حمایت کا مظہر ہو گی۔
دریں اثنابرطانیہ کے ہائی کمشنر نے اسلام آباد میں نائب وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔
ایلون مسک نے گھٹنے ٹیک دیے، ٹرمپ کے خلاف حد سے آگے نکلنے کا اعتراف
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔