پاکستان کو انسدادِ دہشتگردی کمیٹی کا نائب سربراہ کیوں بنایا؟بھارت کا سلامتی کونسل سے شکوہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
نئی دہلی: دنیابھرمیں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث بھارت کوپاکستان کا سلامتی کونسل کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کا نائب سربراہ مقررہوناہضم نہیں ہورہا، بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے سلامتی کونسل کو تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے یہ بھاشن دیاہے کہیہ ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دودھ کی رکھوالی پر لگا دیا جائے۔
دہرادون میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان 2025 میں طالبان پابندیوں کی کمیٹی کی صدارت کرے گا اور ساتھ ہی 1373 انسداد دہشت گردی کمیٹی کا نائب سربراہ بھی ہوگا، تازہ ترین مثال یہ ہے کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی پینل کا نائب صدر بنایا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ پینل نائن الیون کے حملوں کے بعد بنایا گیا تھا اور ہم سب جانتے ہیں کہ وہ حملے کس نے کیے تھے؟انہوں نے کہاکہ یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ پاکستان نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کو پناہ دی تھی اس لئے حالیہ فیصلہ ایسے ہی ہے جیسے بلی کو دودھ کی رکھوالی پر لگا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر اقوام متحدہ جیسے ادارے کی سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر دہشت گردی کاروایتی الزام دہراتےہوئے کہاکہ یہ وہی پاکستان ہے جس کی زمین عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل کا نائب
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔