سینیٹ نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی بجٹ سفارشات منظور کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بجٹ تجاویز پر مبنی رپورٹ ایوان میں پیش کردی۔
رپورٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی خزانہ کے چئیرمین سلیم مانڈوی والا نے رپورٹ پیش کی، سینیٹ نے قائمہ کمیٹی خزانہ کی بجٹ سفارشات منظور کرلیں، بجٹ سفارشات کثرت رائے سے منظور کیں
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ شبلی فراز اور محسن عزیز کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہا ہوں،یہ بجٹ ہم سب کا ہے، سب نے عوامی مفاد کے ایشوز پر بات کی اور تنقید بھی کی،
رات دو بجے تک کمیٹی سٹاف بیٹھا رہا۔
بجلی صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
انہوں نے کہا کہ ن لیگ پی پی اور پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے بجٹ پر تنقید کی تجاویز دیں،اسٹاف سے غلطی ہوئی ہوگی وہ مسودہ شئیر کرنا بھول گئے ہوں گے، تمام سفارشات وہی ہیں جو قائمہ کمیٹی میں پیش ہوئیں، تمام سینیٹرز کی تجاویز حتمی سفارشات میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال 12 اجلاس ہوئے اس بار 7 اجلاسوں میں سفارشات تیار کیں،اپوزیشن کی طرف سے قائمہ کمیٹی کو بہت سپورٹ ملی، پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی، اس ترمیم سے حکومت کی قرضوں میں کمی ہوگی۔
کسان بورڈپاکستان کا"کسان بچاؤ،زراعت بچاؤ‘‘تحریک کا اعلان
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سولر پینل پر 18 فیصد ٹیکس کو مسترد کیا، ہومیوپیتھی آئٹمز پر سیلز ٹیکس مسترد کیا، اسٹیشنریز پر ٹیکس مسترد کیا، اسٹیل سیکٹر پر ٹیرف کی مسترد کیا،800 سی سی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ 800 سی سی گاڑیوں پر ٹیکس ساڑھے 12 فیصد رکھنے کی تجویز دی،پرنٹ میڈیا آئی ٹی سروسز پر ٹیکس نہ بڑھانے کی تجویز دی، صوبائی ڈومین والی سروسز پر ٹیکس کی مخالفت کی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظرثانی کریں،تنخواہیں مزید بڑھائی جائے۔
میگا کرپشن سکینڈل میں نیب لاہور کی رواں سال کی بڑی ریکوری
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کم از کم اجرت دو سفارشات 40 ہزار اور 50 کرنے کی تجاویز دیں، ایک لاکھ ماہانہ تک تنخواہ پر ٹیکس نہ لیا جائے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سلیم مانڈوی والا نے قائمہ کمیٹی مسترد کیا نے کہا کہ پر ٹیکس
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز