کراچی میں آیت اللہ خامنہ ای سے اظہارِ یکجہتی کیلئے وال چاکنگ، عوامی سطح پر اظہارِ یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
وال چاکنگ کا یہ سلسلہ ناظم آباد، گلشنِ اقبال، فیڈرل بی ایریا، ملیر سمیت مختلف علاقوں میں دیکھا گیا، جہاں شہریوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اپنے جذبات کو تحریری شکل دی۔ عوامی سطح پر اس اقدام کو ایران پر اسرائیلی حملے کے خلاف عالمِ اسلام کی قیادت سے وابستگی اور صیہونی و امریکی جارحیت کے خلاف نفرت کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں رہبرِ انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حق میں وال چاکنگ کی گئی ہے۔ شہر کی متعدد مرکزی شاہراہوں اور علاقوں کی دیواروں پر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر کے ساتھ ساتھ Pakistan Stands with Ali Khamenei کی چاکنگ کی گئی جو عوامی سطح پر ایران سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف شدید ردِعمل کا مظہر ہیں۔ وال چاکنگ کا یہ سلسلہ ناظم آباد، گلشنِ اقبال، فیڈرل بی ایریا، ملیر سمیت مختلف علاقوں میں دیکھا گیا، جہاں شہریوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اپنے جذبات کو تحریری شکل دی۔ عوامی سطح پر اس اقدام کو ایران پر اسرائیلی حملے کے خلاف عالمِ اسلام کی قیادت سے وابستگی اور صیہونی و امریکی جارحیت کے خلاف نفرت کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای امت مسلمہ کے ایک جری، باوقار اور استقامت پسند قائد ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ظالموں کے خلاف آواز بلند کی۔ شہریوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے مظلومین کی آواز ہیں، اُن کی قیادت میں ہم سامراجی قوتوں کے خلاف ڈٹے رہیں گے۔ مختلف حلقوں کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری اسرائیلی دہشتگردی، فلسطینی عوام کی نسل کشی اور اب ایران پر جارحیت، ان تمام اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور اقوامِ متحدہ اس کی ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی سطح پر وال چاکنگ آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔