شہید بی بی کا وژن آج بھی مشعلِ راہ ہے، رہنمائی لے کر جمہوریت مضبوط کریں گے، صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اسلام آباد:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہید بی بی کا وژن آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اس سے رہنمائی لے کر جمہوریت مضبوط کریں گے۔
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی 72 ویں سالگرہ کے موقع پر جاری پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے اُن کی قومی خدمات اور عظیم قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت، انسانی وقار اور خواتین کے حقوق کے لیے جو ناقابل فراموش جدوجہد کی، وہ آج بھی تاریخ کا روشن باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف جرأت اور استقامت کے ساتھ مزاحمت کی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے چلنے والی تحریکوں کی قیادت کی۔ وہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی تھیں۔ ان کا وژن، قربانیاں اور عوام سے گہری وابستگی پاکستان پیپلز پارٹی کی اجتماعی میراث ہیں۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ شہید بی بی ہمیشہ خواتین کی سماجی اور معاشی خودمختاری کی علمبردار رہیں۔ وہ پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی آواز بن کر ابھریں اور ایک پرامن، خوشحال اور جمہوری پاکستان کی خواہاں تھیں۔ ان کی اصولی سیاست آج بھی ایک منصفانہ اور جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن سے رہنمائی لیتے ہوئے نہ صرف جمہوریت کو مستحکم کریں گے بلکہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنائیں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بینظیر بھٹو صدر مملکت آج بھی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔