برطانوی وزیرِ تجارت جوناتھن رینولڈز نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود برطانوی شہریوں کے انخلاء کے لیے حکومت کی جانب سے ریسکیو پروازوں کا آغاز ’گھنٹوں میں ہو سکتا ہے، اس میں دن نہیں لگیں گے۔‘

انہوں نےبرطانوی خبررساں ادارے کے پروگرام ”سنڈے مارننگ وِد ٹریور فلپس“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا ایران پر امریکی حملوں میں کوئی کردار نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود حکومت نے ہر ممکنہ صورتحال کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں کر رکھی ہیں۔

رینولڈز نے کہا، ’ہم یہ یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ ہم برطانوی شہریوں کا تحفظ کیسے کریں، انہیں کیسے نکالیں، اور ہمارے پاس جو وسائل خطے میں موجود ہیں، ان سے برطانوی تنصیبات، اڈوں اور عملے کا دفاع کیسے کیا جائے۔‘

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں موجود تمام برطانوی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی موجودگی رجسٹر کرائیں تاکہ حکومت کو ان کے مقام کا علم ہو سکے۔

رینولڈز کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اسرائیلی فضائی حدود کھلے گی، برطانوی حکومت فوری طور پر چارٹر پروازوں کے ذریعے شہریوں کے انخلاء کا عمل شروع کر دے گی۔

جب میزبان نے ان سے سوال کیا کہ یہ پروازیں کب شروع ہوں گی، تو رینولڈز نے جواب دیا: ”ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ گھنٹوں کی بات ہے، دنوں کی نہیں۔“

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے