انسانی حقوق کونسل کے 59ویں اجلاس میں شرکت کے لیے کشمیری وفد جنیوا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
وفدںکشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیمینارز، کارنر میٹنگز بمیں شرکت کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 59ویں اجلاس میں شرکت کے لیے الطاف حسین وانی کی قیادت میں کشمیری رہنمائوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل آٹھ رکنی کشمیری وفد جنیوا روانہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد جنیوا میں مقیم سفارت کاروں ،انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کرے گا۔ وفدکشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیمینارز، کارنر میٹنگزمیں شرکت کرے گا اور مختلف مباحثوں کی میزبانی کرے گا جن میں بھارتی حکومت کی جانب سے دفعہ370اور 35A کی منسوخی کے بعد کشمیری عوام کو درپیش شدید مشکلات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ان دفعات کی منسوخی ایک انتہائی متنازعہ فیصلہ ہے جس نے خطے کے مذہبی اور سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ وفد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ بھارت کی طرف سے کشمیری عوام کی مذہبی آزادیوں اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کرائے گا۔ اس دوران افسپا، یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے اندھا دھند استعمال، سیاسی رہنمائوں کی مسلسل نظربندی، نہتے شہریوں کے قتل اور وادی کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں دریافت ہونے والی گمنام اجتماعی قبروں کے مسئلے کو اجاگر کیا جائے گا ۔وفد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی،کے آئی آئی آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار امجد یوسف ،سید فیض نقشبندی، شمیم شال، ڈاکٹر سائرہ شاہ، نائلہ الطاف کیانی اور مہر النساء شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسانی حقوق کی کشمیری عوام میں شرکت کی طرف کرے گا
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،