Express News:
2026-06-03@00:45:10 GMT

عوامی مقبولیت کا معیار

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

بھارت کے ساتھ چند دنوں کی جنگ میں اپنی شاندارکامیابی کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی سطح پر مسلسل قبولیت مل رہی ہے، دنیا بھر میں پاک فوج کی شاندار کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار امریکی صدر نے پاکستانی آرمی چیف کو اپنے ظہرانے پر مدعو کیا ، طویل ملاقات کی اور اس ملاقات کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔

پاکستان میں عموماً سیاسی آزادیوں کی آڑ لے کر اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر فوج پر تنقید کی جاتی ہے لیکن قوم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہ تنقید سیاسی اور مفاد پرستانہ ہوتی ہے، سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اس وقت تک اسٹیبلشمنٹ کی تعریفیں کیں جب تک ان سے انھیں مفادات حاصل ہوتے رہے۔

پی ٹی آئی یہ کہتی نہیں تھکتی تھی کہ ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔پی ٹی آئی حکومت میں رہ کر سیاسی اور معاشی مفادات حاصل کرتی رہی اور اسٹیبلشمنٹ کی تعریفوں کے پل باندھتی رہی۔ مگر جب دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے تو پی ٹی آئی نے تمام اخلاقی معیار بالائے طاق رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے۔

سیاسی مفاد پرستی اور خود غرضی ہمیشہ سے سیاستدانوں کا وتیرہ رہی ہے۔جب تک ان کے سیاسی مفادات پورے ہوتے رہے تو ہر طرف انھیں ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے اور جب ان کے مفادات کو زک پہنچتی ہے تو وہی حکومت برائیوں کی جڑ بن جاتی ہے۔آج تک یہی کچھ ہوتا چلا آ رہا ہے۔سیاست میں دوستی اور دشمنی اپنے اپنے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔جب مفادات یکساں ہوں تو کل کے دشمن آج کے دوست بنتے دیر نہیں لگاتے۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومتوں میں ایک پیج پر ہونے کے دعوے اتنے کھلے عام نہیں ہوتے تھے، جتنے بانی پی ٹی آئی اور موجودہ حکومت میں ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی تو اس حد تک چلے گئے کہ انھوں نے آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دیا تھا اور بے نظیر بھٹو نے جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت سے نوازا تھا جو ایک منفرد اعزاز تھا۔یہ سب سیاست کے کھیل ہیں‘ سیاست کی بساط پر کوئی کسی کا دوست اور کوئی کسی کا دشمن نہیں سب مفادات کے اسیر ہیں۔

 وزیراعظم میاں شہباز شریف تقریباً ڈھائی سال سے حکومت کر رہے ہیں ،ان کی حکومت نے اچھی معاشی پالیسی اختیار کی جسے اسٹیبلشمنٹ کی تائید حاصل رہی ہے۔

وزیر اعظم کی بیرون ملک ہی مصروفیات زیادہ رہی ہیں کیونکہ حالات کا تقاضا یہی ہے۔ میاں نواز شریف بھی موجودہ وزیر اعظم سے مختلف نہیں تھے، سندھ میں شدید بدامنی پر اپنی ایک عید اور رات نواب شاہ میں گزاری تھی۔ پی پی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو واقعی عوام میں مقبول وزیر اعظم تھے جو ملک کے تقریباً ہر ضلع میں گئے اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو  بھٹو کی طرح مقبول نہ ہونے پر بھی اندرون ملک کے دورے کرتے تھے مگر بانی پی ٹی آئی عوام سے دور رہنے کے عادی اور اندرون ملک کے دوروں پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر تقریباً ڈھائی سال سے ملک کے دو اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں ،اس دوران پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی اور عالمی سطح پر پاکستان کا قد کاٹھ بڑھا ہے۔میاں شہباز شریف کی حکومتی کارکردگی پر سروے کرانے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی حکومت کی اور ان کی اپنی ڈھائی سالہ کارکردگی کیسی رہی، وہ عوام میں مقبول ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ عام انتخابات میں ہوجائے گا۔

ان کی حکومت نے ملک کے مہنگائی و بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا کروڑوں لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا، اس حکومت نے مہنگائی بڑھائی۔ عوام نے تو اپنے وزیر اعظم کے چہرے پر کبھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی اور ہمیشہ نئے نئے سوٹوں میں ملبوس مسکراتے ہی دیکھا، ان سب الزامات کا جواب ووٹ کے ذریعے ہی مل سکتا ہے، عوام بتائیں گے کہ وہ ان کی حکومت سے خوش ہیں یا ناراض ہیں ، اس کا فیصلہ الیکشن میں کردیں گے ۔ آج ان پر تنقید کرنے والے بتائیں کہ وہ اقتدار میں ہوتے تو کیا کرتے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ان کی حکومت ملک کے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان