ملک بھر میں 25 جون سے شدید بارشوں کی پیشگوئی، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کا آغاز معمول سے پہلے ہونے جارہا ہے، محکمہ موسمیات نے 25 جون سے شدید بارشوں، ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون کا موسم پاکستان میں معمول سے ایک ہفتہ پہلے یعنی 25 جون سے شروع ہو جائے گا۔
عام طور پر مون سون کی بارشیں جولائی میں شروع ہو کر ستمبر کے وسط تک جاری رہتی ہیں، لیکن چیف میٹرولوجسٹ ظہیر بابر نے ڈان کو بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں مون سون کے نظام میں کچھ تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے خبردار کیا ہے کہ موسمی نظام کے نتیجے میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بارش سے جڑی دیگر آفات کا خطرہ ہے۔
پی ایم ڈی کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہونا شروع ہوچکی ہیں اور آئندہ دو روز میں ان میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
25 جون کو ایک مضبوط مغربی لہر شمالی علاقوں میں داخل ہو گی اور 26 جون سے نمایاں ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں چاروں صوبوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔
ان موسمی حالات کے زیر اثر وادی نیلم، مظفرآباد، راولا کوٹ، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں 24 جون سے 2 جولائی تک درمیانے درجے سے موسلادھار بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
اسی طرح کا موسم 26 سے 29 جون تک گلگت بلتستان کے دیامر، استور، غذر، سکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے اور شگر کے علاقوں میں بھی متوقع ہے۔
پنجاب میں 25 جون سے یکم جولائی تک اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، قصور، خوشاب، سرگودھا، بھکر اور میانوالی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
اسی طرح جنوبی پنجاب میں بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، راجن پور، رحیم یار خان اور لیہ میں 26 سے 28 جون تک بارش کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں کا امکان دیر، چترال، سوات، کوہستان، ملاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان، مہمند، خیبر، وزیرستان، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، ہنگو اور کرم میں 25 جون سے یکم جولائی تک ہے۔
سیلاب
محکمہ موسمیات کے مطابق مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، دیر، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، صوابی، اسلام آباد اور راولپنڈی کے نالوں میں اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔
ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں بھی 26 جون تا یکم جولائی کے دوران پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ، پشاور، حیدرآباد اور کراچی کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ ہے۔
خیبرپختونخوا، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان علاقوں میں سفر سے پہلے موسم کی صورتحال ضرور جانچ لیں۔
مزید برآں، تیز بارش، آندھی اور بجلی کی چمک سے کچے مکانات، بجلی کے کھمبے، ہورڈنگز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی ایڈوائزری
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے پیش نظر پنجاب کی ضلعی انتظامیہ کو مون سون کی تیاری کے لیے ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔
پنجاب کے کئی شہروں میں پہلے ہی پری مون سون بارشیں ہوچکی ہیں، جن میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت، آبپاشی، بلدیاتی ادارے اور لائیو اسٹاک محکمے کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، طوفان کے دوران پناہ لینے اور بجلی کی چمک کے وقت کھلے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 شکایات کے لیے فعال ہے۔
حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ مساجد، کمیونٹی لیڈرز اور ایس ایم ایس کے ذریعے انتباہی پیغامات جاری کیے جائیں اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے ذریعے چوبیس گھنٹے رابطہ رکھا جائے۔
قبل ازیں، لاہور ایئرپورٹ (37 ملی میٹر)، گوجرانوالہ (28 ملی میٹر)، نورپور تھل (29 ملی میٹر) اور سیالکوٹ (11 ملی میٹر) میں پری مون سون بارش ریکارڈ کی گئی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لینڈ سلائیڈنگ محکمہ موسمیات کا امکان ہے علاقوں میں ملی میٹر گئی ہے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔