سی ویو پر گٹر آبشار، ’پیپلز پارٹی نے کراچی سے بہترین انتقام لیا ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
سوشل میڈیا پر کراچی سی ویو کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جہاں پتھروں سے پانی نیچے گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اور یہ ایک مسحور کن منظر پیش کر رہا ہے۔
ویڈیو شیئر کرنے والے صارف نے کہا کہ ہم سی ویو پر بیٹھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں، یہاں ایک آبشار بھی ہے جس کا آپ کو علم نہیں ہے اور اس کے لیے مرتضیٰ وہاب کا شکریہ ادا کریں۔
صارف نے مزید کہا کہ اس آبشارکو دیکھ کر لگے گا یہ ناران، کاغان سے آ رہی ہے لیکن اگر آپ کو کمیرے کے پیچھے کے مناظر دکھائیں تو یہ گندا پانی ہے جو ایک ٹینکر کے ذریعے سی ویو میں پھینکا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور اب تک ہزاروں لوگ اسے دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے ہیں اور اس پر تبصرے بھی جاری ہیں، کئی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ سالوں سے جاری ہے اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ عروج مختار نے کہا کہ فیکٹریوں کا کیمیائی فضلہ سمندر میں ڈال کر عوام کی زندگیوں سے کھیلا رہا ہے اور کراچی والوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، صارف نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی سے بہترین انتقام لیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ اب تھائی لینڈ جانے کی ضرورت نہیں جبکہ سید اصغر علی نے طنزاً لکھا کہ سمندر میں پانی کم ہو گیا ہے اس لیے وہ پانی پورا کر رہے ہیں۔ طیبہ فرہاج نے مرتضیٰ وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سی ویو کراچی مرتضیٰ وہاب وائرل ویڈیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سی ویو کراچی مرتضی وہاب وائرل ویڈیو سی ویو رہا ہے کہا کہ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔