زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا، کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جون2025ء)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا،زرعی شعبے میں اصلاحات سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اورپیداواری لاگت میں کمی آئے گی،زراعت کی ترقی کے لئے آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بدھ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی ترقی کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا،زرعی شعبے میں اصلاحات سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔(جاری ہے)
وزیراعظم نے کہا کہ فارم میکنائزیشن کی ترویج کے لئے زرعی مشینری اور آلات پر ٹیکس بتدریج کم کیا جائے،زرعی اجناس کی سٹوریج کی صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے اقدامات تیز کئے جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں کا زرعی شعبے کی ترقی کے لئے نئے منصوبے اور فنڈز کی فراہمی خوش آئند ہے،امید ہے کہ زرعی سکالرشپ پر چین بھیجے جانے والے افراد وطن واپسی پر زرعی شعبے کے فروغ کے لئے بطور انٹرپرینیور قابل قدر خدمات سر انجام دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ کسانوں اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو ہو گا،زراعت کی ترقی کے لئے آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔اجلاس میں وزیراعظم کو زرعی شعبے میں اصلاحات بالخصوص زرعی پیداوار میں اضافے، زرعی انفراسٹرکچر اور کسانوں کی آسان زرعی قرضوں تک رسائی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ ایکشن پلان کسانوں کی آمدنی بڑھانے، پیداوار میں اضافے اور جامع اصلاحات پر مرکوز ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کر کے برآمدات سے کسانوں کی آمدنی بڑھائی جائے گی اور قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکے گا،قومی ٹیکنالوجی فنڈ کے منصوبے اگنائٹ کے تحت 129 زرعی سٹارٹ اپس شروع کئے جا چکے ہیں۔اجلاس میں وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیراعظم کے چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی، زرعی شعبے کے لئے وزیراعظم کے چیف کوآرڈینیٹر احمد عمیر، زرعی شعبے سے وابستہ نجی شعبے کے انٹرپرینیور اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیداوار میں ملکی معیشت اصلاحات سے کی ترقی کے اور زرعی پر ٹیکس کے لئے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔