اقوام متحدہ کی رپورٹ 2024: دنیا بھر میں بچوں کے خلاف جرائم میں اسرائیل کا پہلا نمبر
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ 2024 کے مطابق دنیا بھر میں بچوں کے خلاف جرائم میں اسرائیل سر فہرست ہے۔ عالمی ادارے میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلح تنازعات کے شکار علاقوں میں بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ پرامن اور خوشحال معاشروں کی تشکیل کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کا انعقاد مسلح تنازعات کے دوران بچوں پر مرتب ہونے والے اثرات پر غور کے لیے کیا گیا تھا، جہاں اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں غیر معمولی اضافے کی رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ کے سنگین انکشافاتاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نمائندہ ورجینیا گیمبا نے اجلاس میں بتایا کہ سال 2024 کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف 41,370 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے، اور 2005 میں مانیٹرنگ سسٹم کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل نے بھوک کو جنگی ہتھیار بناکر غزہ کے مزید 29 بچے اور بوڑھے قتل کردیے
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خلاف ورزیاں 25 ممالک میں ہوئیں، جن میں بچوں کا قتل، انہیں زخمی کرنا، اغوا، جنسی تشدد، جبری بھرتی، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے اور انسانی امداد سے محرومی شامل ہیں۔ ورجینیا گیمبا نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے 22,000 سے زائد بچوں کی ٹوٹی ہوئی زندگیاں، خواب اور مستقبل کی کہانیاں ہیں۔
اسرائیل خلاف ورزیوں میں سرفہرسترپورٹ کے مطابق 2024 میں بچوں کے خلاف سب سے زیادہ سنگین خلاف ورزیاں اسرائیل نے کیں۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عبدالعزیز الواصل نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری بمباری اور ناکہ بندی نے عام شہریوں کو بدترین انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے، اور اب تک 55,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں 10 لاکھ سے زائد بچے بنیادی ضروریات خوراک اور ادویات سے محروم ہو چکے ہیں۔
عبدالعزیز الواصل نے بچوں کے تحفظ کو ایک قانونی فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ تمام فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کو بچائیں بلکہ مسلح تشدد کی بنیادی وجوہات کا بھی خاتمہ کریں۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیلی فوج غزہ میں حاملہ خواتین کے ٹکڑے، بچوں کے سروں پر گولی ماررہی ہے، اقوام متحدہ میں امریکی سرجن کا انکشاف
انہوں نے قرارداد 1612 کے 20 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے دنیا کو یاد دلایا کہ اب وقت ہے کہ ہم تشدد کے چکر کو توڑیں اور ایسا ماحول تشکیل دیں جو انتہاپسندی کو مسترد کرے اور لچک و برداشت کو فروغ دے۔
اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہر اس کوشش کی تائید کرتا ہے جو بچوں کے تحفظ اور جنگ زدہ علاقوں میں انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ بچوں کے خلاف جرائم عبدالعزیز الواصل غزہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ بچوں کے خلاف جرائم عبدالعزیز الواصل میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے میں بچوں کے خلاف اقوام متحدہ انہوں نے متحدہ کی کہا کہ نے کہا کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔