دنیا کے سامنے بلوچستان کی حقیقت مسخ کی جاتی ہے‘ سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن بیانیے سے دنیا کے سامنے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے، وائلنس کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ، حکومت نے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے قانون میں واضح ترامیم کی ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے حوالے سے جو بیانیہ پیش کیا جاتا رہا ہے وہ محض ایک تصور ہے، اصل حقیقت نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے حساس معاملات پر ان کیمرہ بات کی جائے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بلوچستان کا الحاق ایک تاریخی حقیقت ہے تاہم بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن بیانیے سے دنیا کے سامنے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان میں تشدد کو بلوچ شناخت سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو شک کی بنیاد پر حراست میں لینے کے بعد قانون کے تحت کارروائی ہوگی اور حراست میں لیے گئے ہر شخص کا ہفتے میں ایک بار میڈیکل چیک اپ لازمی ہوگا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ دسمبر میں بلوچستان کا ایک بھی سکول بند نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان کے انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔