مون سون بادل ملک میں داخل، کراچی میں بارشوں کا آغاز کب ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کراچی میں جمعے کی شام میں ہلکی بارش کا امکان ہے اور ہفتے کو وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ درمیانی، جبکہ کچھ مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خلیج بنگال سے مون سون اثرات ملک کے بیشتر حصوں میں داخل ہو رہے ہیں، جن میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، جبکہ ایک مغربی لہر نے بھی ملک کے مغربی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر پیشگوئی کے مطابق کراچی میں جمعے کی شام میں ہلکی بارش کا امکان ہے اور ہفتے کو وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ درمیانی، جبکہ کچھ مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ دیہی سندھ کے علاقے تھرپارکر، عمرکوٹ اور میرپورخاص میں گردوغبار اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بدین، ٹھٹھہ، سجاول، دادو، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، حیدرآباد، تھرپارکر، میرپور خاص، ٹنڈوالہ یار، ٹنڈو محمد خان، جیکب آباد، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع جمعرات سے 29 جون تک بارش ہو سکتی ہے۔
موسلادھار بارش، آندھی اور بجلی گرنے سے روزمرہ کے معمولات، شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔ پیشگوئی کی مدت کے دوران کچے کے گھروں کی چھت، دیوار، بجلی کے کھمبوں اور سولر پینل جیسے کمزور ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کسانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ موسم کی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا انتظام کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بارش کا امکان ہے
پڑھیں:
اسلام آباد: کفایت شعاری مہم کے تحت نئے کاروباری اوقات کار سامنے آ گئے
—فائل فوٹووفاقی حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت نئے کاروباری اوقاتِ کار جاری کر دیے، کیبنٹ ڈویژن نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد میں دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور کریانہ اسٹورز رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ شادی ہالز، مارکیز اور تمام کمرشل سرگرمیاں رات 10 بجے تک کی جا سکتی ہیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیرصدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
اس کے علاوہ ریسٹورنٹ، کیفے، کیٹرنگ، ہوٹل اور سبزی اور فروٹس کی دکانیں رات 11 تک کھلی رہیں گی جبکہ ٹیک اویز اور ہوم ڈیلیوی ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہیں۔
نوٹیفکیشن میں اسپتال، کلینک، میڈیکل اسٹورز، بیکریز، تندور اور دودھ دہی کی دکانیں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔