اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے کا گم ہونے پر بنوانے کا آسان طریقہ بتا دیا۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں نادرا کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے بغیر چپ والے کارڈ کی میعاد ختم ہوچکی ہے یا گم ہوگیا ہے تو اضافی خصوصیات کا حامل بغیر چپ والا کارڈ حاصل کرنے کے لیے کارڈ کی تجدید یا گمشدہ کارڈ کی درخواست کی بجائے ترمیم کی درخواست آج ہی نادرا دفتر یا پاک آئی ٹی موبائل ایپ کے ذریعے جمع کروائیں۔

نادرا حکام کے مطابق کارڈ بنوا کر کم فیس میں اسمارٹ کارڈ والی خصوصیات سے فائدہ اٹھائیں۔

شناختی کارڈ کی فیس

نارمل شناختی کارڈ کی فیس 400 روپے اور پروسیسنگ کا وقت 15 دن ہے، ارجنٹ سروس 1150 روپے اور شناختی کارڈ 12 دن میں فراہم کیا جائے گا۔

ایگزیکٹو شناختی کارڈ کی فیس 2150 روپے اور ڈیلیوری کا وقت 6 دن ہے۔

پنڈی بھٹیاں، شادی کی تقریب میں جھگڑا، دولہے کی ٹانگیں توڑ دی گئیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ کی

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان