میعاد ختم یا گم ہونے پر شناختی کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے کا گم ہونے پر بنوانے کا آسان طریقہ بتا دیا۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں نادرا کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے بغیر چپ والے کارڈ کی میعاد ختم ہوچکی ہے یا گم ہوگیا ہے تو اضافی خصوصیات کا حامل بغیر چپ والا کارڈ حاصل کرنے کے لیے کارڈ کی تجدید یا گمشدہ کارڈ کی درخواست کی بجائے ترمیم کی درخواست آج ہی نادرا دفتر یا پاک آئی ٹی موبائل ایپ کے ذریعے جمع کروائیں۔
نادرا حکام کے مطابق کارڈ بنوا کر کم فیس میں اسمارٹ کارڈ والی خصوصیات سے فائدہ اٹھائیں۔
شناختی کارڈ کی فیس
نارمل شناختی کارڈ کی فیس 400 روپے اور پروسیسنگ کا وقت 15 دن ہے، ارجنٹ سروس 1150 روپے اور شناختی کارڈ 12 دن میں فراہم کیا جائے گا۔
ایگزیکٹو شناختی کارڈ کی فیس 2150 روپے اور ڈیلیوری کا وقت 6 دن ہے۔
پنڈی بھٹیاں، شادی کی تقریب میں جھگڑا، دولہے کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: شناختی کارڈ کی
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔