data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ڈیری فارمز نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو جواز بنا کر کمشنر کراچی سے فی لیٹر قیمت میں 34 سے 40 روپے اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر کراچی سید حسن نقی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فارمرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے یک زبان ہو کر سرکاری قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران ڈیری فارمز کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے مویشیوں اور چارے کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث دودھ کی پیداواری لاگت 271 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔

اجلاس میں ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے بھی قیمت بڑھانے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ فی لیٹر کم از کم 35 روپے اضافہ کیا جانا چاہیے، تاہم کمشنر کراچی نے فوری طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے سندھ فوڈ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ آنے تک معاملہ مؤخر کر دیا۔

اس اعلان پر ڈیری فارمز اور ہول سیلرز برہم ہو گئے اور انہوں نے اجلاس کے دوران ہی کمشنر آفس میں دھرنا دے دیا جو بعد ازاں فالو اپ اجلاس کی یقین دہانی پر ختم کیا گیا۔

اجلاس میں دودھ کی سپلائی چین میں پائے جانے والے مسائل پر بھی غور کیا گیا، خاص طور پر زنگ آلود ٹنکیوں کے استعمال اور غیر معیاری و ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کے حوالے سے، لیکن فارمرز اور ہول سیلرز اس پر کوئی حتمی مدت دینے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔

صارفین کے نمائندوں نے نشاندہی کی کہ موسم سرما قریب ہے، اس دوران دودھ کی پیداوار بڑھتی اور طلب کم ہو جاتی ہے، اس لیے قیمتوں میں اچانک اضافے کی کوئی ضرورت نہیں بنتی۔

واضح رہے کہ جون 2024ء  میں کمشنر کراچی نے دودھ کی فی لیٹر قیمت 220 روپے مقرر کی تھی، جس میں ڈیری فارمز کے لیے 195 روپے اور ہول سیلرز کے لیے 205 روپے کا تعین کیا گیا تھا۔ اب ایک بار پھر صارفین کو خدشہ ہے کہ اگر ڈیری فارمز کے مطالبات مان لیے گئے تو قیمت میں 40 روپے تک کا اضافہ ان کے گھریلو بجٹ پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کمشنر کراچی ڈیری فارمز ہول سیلرز فی لیٹر دودھ کی

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا