کراچی میں دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 40 روپے تک اضافے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث ڈیری فارمز نے کراچی میں دودھ کی سرکاری قیمت میں 40 روپے فی لیٹر تک اضافے کا مطالبہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شمالی علاقوں اور پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر ڈیری فارمز نے انوکھی منطق اپناتے ہوئے کمشنر کراچی سے قیمت میں اضافے کا مطالبہ کیا۔
کمشنر کراچی کے دفتر میں ڈیری فارمز کا اجلاس ہوا جس میں ڈیری فارمز نے کمشنر کراچی پر قیمتوں میں اضافے کے لیے دبائو بڑھاتے ہوئے اجلاس کے دوران ہی دھرنا دیا اور نئی قیمت کا نوٹی فکیشن فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں کمشنر کراچی نے سندھ فوڈ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ آنے تک فیصلہ ٹال دیا۔ کمشنر کراچی سید حسن نقی کے زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں میں ڈیرئ فارمرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے یک زبان ہوکر دودھ کی سرکاری قیمت میں 34 سے 40 روپے لیٹر اضافے کا مطالبہ کیا۔
ڈیری فارمرز نے حالیہ سیلاب سے مویشیوں اور چارے کی دستیابی کے مسائل کو جواز بنایا اور پیداواری تخمینہ 271 روپے ظاہر کیا جبکہ ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے بھی 35 روپے فی لیٹر اضافے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس کے دوران جب کوسٹنگ کی گئی تو فی لیٹر دودھ کی لاگت 271 روپے سامنے آئی۔ اس پر انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تجویز زیر غور آئی مگر کچھ وجوہات کی بنا پر کمشنر کراچی نے فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا اور اجلاس کو درمیان میں ہی ختم کر دیا گیا۔
اجلاس میں دودھ کی سپلائی چین میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی بالخصوص زنگ آلود ٹنکیوں کے استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا ڈیری فارمرز اور ہول سیلرز کئی سال سے زیر التوا اس معاملے پر عمل کرکے زند آلود ٹنکیوں کو متروک کرنے کی کوئی حتمی مدت پر آمادہ نہیں ہوئے۔
ادھر شہر بھر میں آلودہ، ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری دودھ کی فروخت کی روک تھام پر بھی ڈیری فارمرز ہول سیلرز اور ریٹیلرز کی نمائندہ تنظیمیں کسی قسم کی یقین دہانی نہ کروا سکیں۔
غیر معیاری ملاوٹ شدہ دودھ کے نمونوں کی رپورٹ آنے تک قیمت میں اضافہ نہ کرنے کے فیصلے پر ڈیرئ فارمرز ہول سیلرز اور ریٹیلرز بپھر گئے اور کمشنر ہاؤس میں ہی دھرنا دے ڈالا جو بعد ازاں فالو اپ اجلاس کی یقین دہانی پر ختم کردیا گیا۔
اجلاس میں شریک صارفین کے نمائندوں نے توجہ دلائی کہ موسم سرما کی آمد قریب ہے اس دوران دودھ کی طلب کم اور پیداوار بڑھ جاتی ہے اس مدت کے دوران سالانہ بندھی والی دکانیں بدستور مقررہ قیمت پر دودھ فروخت کرتی ہیں تاہم ہول سیل مارکیٹ سے خرید کر دودھ فروخت کرنے والے دکاندار قیمتوں میں کمی کر دیتے ہیں اس لیے موسم سرما کی دوران طلب و رسد کا کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا۔
واضح رہے کہ کمشنر کراچی نے جون 2024 میں دودھ کی فی لیٹرقیمت کا تعین 220روپےکیا گیا تھا
ریٹیلرزکیلئےدودھ کی قیمت 220روپےلیٹرمقررکی گئی تھی ڈیری فارمرزکیلئے195روپےہول سیلرزکیلئےقیمت205روپےمقررکی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہول سیلرز اور ریٹیلرز اضافے کا مطالبہ کا مطالبہ کیا کمشنر کراچی ڈیری فارمرز میں دودھ کی ڈیری فارمز اجلاس میں فی لیٹر
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر