پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے اپنی ہی پارٹی اور صوبائی حکومت کے خلاف سنگین تحفظات ظاہر کرتے ہوئے ایک مکمل چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی میں جاری اندرونی کشمکش نے پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں سیاسی بحران کو کس قدر شدید کردیا ہے۔

جنید اکبر نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے پارٹی قیادت، خیبرپختونخوا حکومت کے رویے اور اندرونی خلفشار  کے حوالے سے بات کی۔

’پارٹی میرے حامیوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو لوگ میری حمایت کرتے ہیں، انہیں حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے پارٹی میں چور ناقابل برداشت، عمران خان نے بھی بات نہ مانی تو صدارت چھوڑ دوں گا، جنید اکبر

’میں نے صوابی میں جلسہ کیا،  اسد قیصر اور شہرام ترکئی نے اس جلسے کے لیے بہت محنت کی۔ وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ کے جلسے کے لیے ہم نے محنت کی، اس لیے صوبائی حکومت کا ہم سے رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ ‘

انہوں نے اپنی پارٹی کے ایک رہنما ریاض خان کو ذکر کیا جن کا تعلق بونیر سے بیرسٹر گوہر خان کے حلقے سے ہے، انہوں نے جنید اکبر کا جلسہ کروایا تو ریاض خان کی ایک پرانی ترقیاتی اسکیم بھی ختم کردی گئی۔

پارٹی اختلافات کھل کر سامنے

جنید اکبر نے اپنی پارٹی کے اہم رہنماؤں پر بھی واضح اختلافات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق وہ ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہیں، جب کہ پارٹی رہنما بیرسٹر سیف ان حملوں کی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کا مینڈیٹ چوری کرنے والے آر اوز کو ترقیاں دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے جنید اکبر عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک چلانے میں ناکام کیوں؟

’میں نے بیرسٹر گوہر خان سے کہا کہ ’میں صوبائی صدر ہوں۔ میں 5 ماہ سے ڈپٹی کمشنر کو ہٹانے کے لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ وہ پی ٹی آئی والوں کو آپس میں لڑا رہا ہے۔ میں نے اس سے فنڈز روکے جانے کے حوالے سے بات کی تو اس نے کہا کہ مجھے صوبائی حکومت نے کہا ہے۔ میری بات سن کر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ آپ کا 5 ماہ سے ڈپٹی کمشنر تبدیل نہیں ہوا، میں 6 ماہ سے ڈی پی او کا کہہ رہا ہوں، اس کا کچھ نہیں ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر لوگ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد متضاد بیانات اور پیغامات لے کر آتے ہیں۔

ایسی سیاست کا کیا فائدہ؟

جنید اکبر کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کسی قسم کی شفاف پالیسی یا مشاورت کا عمل موجود نہیں۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت کی غیر سنجیدگی اور داخلی تضادات نے کارکنوں کا حوصلہ پست کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا’پارٹی کی طرف سے مجھے کوئی سپورٹ حاصل نہیں۔ ان حالات میں تحریک کو آگے بڑھانا مشکل ہو گیا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسد قیصر جنید اکبر چیئرمین بیرسٹر گوہر خان شہرام ترکئی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنید اکبر چیئرمین بیرسٹر گوہر خان بیرسٹر گوہر خان جنید اکبر نے پی ٹی آئی کہ پارٹی انہوں نے نے اپنی کہا کہ نے کہا کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام