data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو بچانے کا فیصلہ ان کی ذاتی صوابدید تھی، لیکن اس کے بدلے میں شکرگزاری کے دو بول بھی نہ سننے کو ملے۔

ایک بیان میں امریکی صدر صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف فتح کا دعویٰ انتہائی غیرذمہ دارانہ انداز میں کیا، حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی باتیں کریں جن میں سچائی کا عنصر نہ ہو۔ ایک دیانت دار شخص سے اس طرح کے جھوٹ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں بخوبی علم تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کہاں روپوش ہیں اور اگر وہ چاہتے تو امریکی یا اسرائیلی افواج کو انہیں نشانہ بنانے کی اجازت دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے آیت اللہ خامنہ ای کو زندگی دی، لیکن افسوس کہ اس جذبے کا اعتراف تک نہ کیا گیا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایران کو عالمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے پابندیاں نرم کرنے سمیت کئی اقدامات پر غور کر رہے تھے تاکہ ملک کی اقتصادی بحالی ممکن ہو سکے، مگر ایرانی قیادت کے سخت گیر بیانات اور نفرت آمیز لب و لہجے نے اس عمل کو روک دیا۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہ کی تو مستقبل میں اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای امریکی صدر

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر