ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب میں چھوٹے گروسری اسٹورز پر، جنہیں مقامی زبان میں ”بقالہ“ کہا جاتا ہے، کئی اہم اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سعودی وزارت بلدیات، دیہی امور و رہائش کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کے مطابق بقالہ اسٹورز پر اب تمباکو مصنوعات، کھجوریں، گوشت، پھل اور سبزیاں فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔

خلیج ٹائمز کے مطابق وزیر ماجد الحقیل کے دستخط شدہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مملکت میں خوردہ نظام کو ازسر نو ترتیب دینا اور عوامی صحت و سلامتی کے معیارات کو بہتر بنانا ہے۔

یہ فیصلہ فوری طور پر نافذالعمل ہو چکا ہے، تاہم موجودہ دکانداروں کو چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ ان نئے قواعد کے مطابق خود کو ہم آہنگ کر سکیں۔

اس پابندی کے تحت تمباکو کی تمام اقسام، بشمول سگریٹ، الیکٹرانک سگریٹ اور شیشہ، کے ساتھ ساتھ کھجور، گوشت، پھل اور سبزیوں کی فروخت چھوٹے گروسری اسٹورز میں ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔

ان اشیاء کو صرف مخصوص شرائط کے تحت سپر مارکیٹس اور ہائپر مارکیٹس میں فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں سے سپر مارکیٹس کو گوشت فروخت کرنے کے لیے علیحدہ لائسنس درکار ہوگا، جبکہ ہائپر مارکیٹس بغیر کسی اضافی لائسنس کے ان تمام اشیاء کی فروخت کی مجاز ہوں گی۔

وزارت نے نئی پالیسی کے تحت دکانوں کے سائز کے لیے بھی نئے تقاضے مقرر کیے ہیں، جن کے مطابق بقالہ اسٹورز کے لیے کم از کم 24 مربع میٹر، سپر مارکیٹس کے لیے 100 مربع میٹر، جبکہ ہائپر مارکیٹس کے لیے کم از کم 500 مربع میٹر کا رقبہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ہزاروں چھوٹے دکاندار متاثر ہوں گے، جن کی آمدنی کا انحصار انہی اشیاء کی فروخت پر تھا۔

دوسری جانب صارفین کے لیے اس پابندی سے محلے کی سطح پر فوری اور آسان خریداری کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں، تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط بڑے اور بہتر نگرانی والے تجارتی مراکز میں اشیاء کی معیاری ہینڈلنگ اور حفظان صحت کے تقاضوں کو یقینی بنائیں گے۔

حکام کے مطابق چھ ماہ کی مہلت کے بعد اگر کوئی دکاندار ان نئے ضوابط کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اسے جرمانے یا دکان کی بندش جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزیدپڑھیں:حکومت پنجاب کا سرکاری ہسپتالوں میں ”صحت کارڈ“ کی سہولت بند کرنے کا فیصلہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دی گئی ہے اشیاء کی کی فروخت کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار

کراچی:

ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔

فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ