بجلی بلوں میں سے پی ٹی وی فیس کو ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عوام کو ریلیف دینے کے لئے حکومت کی جانب سے اہم اقدامات کئے جارہے ہیں، اب وفاقی حکومت نے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے بجلی بلوں میں سے پی ٹی وی فیس کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے۔ بجلی کے بلوں میں 35 روپے پی ٹی وی فیس وصول کی جارہی ہے۔
تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کے لیے پی ٹی وی فیس ختم کی جائے گی۔
واضح رہے کہ رواں ماہ وزیراعظم کی ہدایت پر پی ٹی وی اور دیگر غیر ضروری سرچارجز ختم کرنے کا پلان تیار کیا گیا تھا، 4 کروڑ 26 لاکھ صارفین سے صرف پی ٹی وی فیس کی مد میں تقریبا ڈیڑھ ارب روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی وی فیس ختم کر کے صارفین کو ٹیرف میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، ہر سال 16 ارب روپے کے ٹیکس میں صرف 11 ارب روپے تک وصولی ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے پی ٹی وی کے وسائل کیلئے دوسرا طریقہ کار لانے کی ہدایت کی تھی، پاور اسمارٹ ایپ کے تحت اپنا میٹر اپنی ریڈنگ کے نئے منصوبے کی بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی تھی۔
مزیدپڑھیں:میر علی میں دہشتگردوں کے حملے میں 13 جوان شہید، جوابی کارروائی میں 14 خوارج ہلاک
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پی ٹی وی فیس کا فیصلہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔