کم جونگ ان سے تعلقات اچھے رہے ہیں، شمالی کوریا کے ساتھ تنازعہ حل کرلیں گے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں، شمالی کوریا کے ساتھ تنازعے کو حل کریں گے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اوول آفس میں عالمی تنازعات کو حل کیلیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو خط لکھا ہے؟
امریکی صدر نے سوال کا جواب دینے کے بجائے یہ کہا کہ میرے کم جونگ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں اور میں ان کے ساتھ رہا ہوں جو واقعی بہت اچھا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ ہمارے درمیان تنازع ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم اسے حل کر لیں گے۔
سیؤل کی این کے نیوز نے اس ماہ رپورٹ کیا تھا کہ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کم جونگ ان کو لکھے گئے خط کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما نے امریکی صدر 2017-2021 کی پہلی میعاد کے دوران تین سربراہی ملاقاتیں کیں اور متعدد خطوط کا تبادلہ کیا جسے ٹرمپ نے خوبصورت قرار دیا تھا۔
اپنے دوسرے دور میں ٹرمپ امریکی صدر نے اعتراف کیا ہے کہ شمالی کوریا ایک ایٹمی طاقت ہے۔ وائٹ ہاؤس نے 11 جون کو کہا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ دوبارہ بات چیت کا خیر مقدم کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا کے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کے ساتھ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔